چترال (نمائندہ چترال میل) چترال پاور کمیٹی نے ضلعی انتظامیہ کو کجو اور کوغذیٰ کے مقامات پر خود اختیاری کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بجلی استعمال کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی کیلئے دو دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ گذشتہ روز صدر پاور کمیٹی خان حیات اللہ خان کی زیر صدارت اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔ جس میں مطالبہ کیا گیا ہے۔ کہ انتظامیہ کی یقین دھانی کے باوجود ابھی تک غیر قانونی بجلی حاصل کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی۔ جسے دو دنوں کے اندر یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم کے نوٹس میں لاکر ایک ہفتے تک انتظار کیا جاتا رہا۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پراُن لوگوں کے خلاف قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ جو کہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ شر پسند عناصر کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کوئی کاروائی نہ کی گئی۔ تو تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ انہوں ٹاؤن کے عوام کی منشا کے مطابق کاروائی کا مطالبہ کیا۔
تازہ ترین
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ
- ہومپاکستان کیمسٹ اینڈڈرگسٹ ایسوسی ایشن چترال کے صدر رحمت الٰہی نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف 21جولائی کے شٹرڈاون ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔”اس قوم کو تعلیم کی نہیں، تربیت کی ضرورت ہے



