تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ
دھڑکنوں کی زبان۔۔ ”چیخ“۔۔محمد جاوید حیات
”چیخ“ میں ایک ماں ہوں۔۔عمر گذر چکی ہے۔۔آکھیاں بے نور ہیں۔سماعت گئی ہوئی ہے۔۔ہوش ٹھکانے نہیں رہتا۔۔ٹانگیں جواب دے گئی ہیں۔۔بازو شل ہیں۔میں آپ لوگوں کی ماں ہوں۔۔ڈرایؤروں کی ماں ہوں۔۔موٹر سائیکل
رُموز شادؔؔ۔۔ ”بائی پاس روڈ اور حادثات کا تسلسل“۔۔ تحریر بقلم۔۔ ارشاد اللہ شادؔ۔بکرآباد چترال
”بائی پاس روڈ او رحادثات کا تسلسل“ بات ایک ہی ہے، عنوان بدل بدل کر سامنے آتی ہے، حل بھی ایک ہی ہے،تعبیر تعبیر بدل بدل کر بیان کیا جاتا ہے۔عنوان اور تعبیر یکجا ہوجائے تو دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے
چترال امتیازی سلوک کا شکار؛ کوہستان بازی لے گیا / تحریر: کمال عبدالجمیل
چترال امتیازی سلوک کا شکار؛ کوہستان بازی لے گیا / صوبہ خیبر پختونخوا جو کہ کسی زمانے میں صوبہ سرحد کہلاتا تھا، اسکا کل رقبہ 74521مربع کلو میٹر ہے۔ قیام پاکستان کے وقت ایک خود مختار ریاست یعنی
داد بیداد۔۔۔کچھوے کی چا ل اور فاٹا۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ
کچھوے کی چا ل اور فاٹا ہفتہ 11مارچ کے اخبارات میں دو خبر یں بڑی تشویشنا ک ہیں پہلی خبر یہ ہے کہ ایف سی آر کے حق میں فاٹا گرینڈ الائنس بعض دیگر طاقتوں کے ساتھ مل کر سیاسی محاذ پر مہم چلانے کے لئے
طاقت کا نشہ۔۔۔۔۔۔۔ شیر جہان ساحل
طاقت کا نشہ کہتے ہیں کہ سکندر اعظم جسے دنیا کا عظیم فاتح تصور کیا جاتا ہے، جب دنیا فتح کرنے کیلئے تیار ہوا اور اپنی آرمی ساتھ لیکر اپنے شہر سے نکلنے سے پہلے اپنے استاد(گرو) یعنی ارسطو کے پاس کیا
صدا بصحرا۔۔۔ رواج ایکٹ۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضیؔ
رواج ایکٹ وفاقی کا بینہ کی طرف سے رواج ایکٹ کی منظوری کے بعد ہفتہ گذر گیا مگر فاٹا میں ایف سی آر کے حامیوں کی طرف سے شور شرابہ اب بھی جاری ہے امریکہ، بھارت اور افغانستان نہیں چاہتے کہ افغان سرحد
ہم اور ہمارے حکمران ۔۔۔تحریر: اقبال حیات آف برغذی
ہم اور ہمارے حکمران ایک بندہ خدا گھٹنوں کے بل گھسٹ کر سڑک کے کنارے جب قرار لیا۔ ہاتھ پر کیچڑ لگے تھے۔ انہیں رگڑ کر خشک کرنے کی کوشش کی اور ہر گزرنے والے کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے
داد بیداد۔۔۔ غر بت مکاؤ فنڈ۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ
غر بت مکاؤ فنڈ غر بت مکاؤ کے نام جو فنڈ اور پیسہ آتا ہے وہ غربت میں مزید اضافہ کر تا ہے کیونکہ اس کا فائد ہ غر یب کی جگہ امیر کو پہنچتا ہے تا زہ خبر یہ آئی ہے کہ پاکستان غربت مکاؤ فنڈ خیبر
ہماکے پر تو نہ کا ٹو۔۔ تحریر ہماؔحیات چترال
ہماکے پر تو نہ کا ٹو کبھی غیرت بنی بنیاد کبھی پردے کی شریعت پر بنی ہوں کیوں تماشا میں اپنی چھوٹی خطاؤں سے کبھی چہرہ جلایا ہے کبھی زندہ کیا در گور بنائے پھر فسانے بڑے دلچسپ اداؤں سے یہ سب ماضی کی
دھڑکنوں کی زبان۔۔۔ اگلے انتخابات۔۔۔محمد جاوید حیات
اگلے انتخابات اگلے انتخابات کے لئے ہر ایک نے اپنے لئے حسین خواب سجایا ہوا ہے۔۔اقتداویسے بھی نشہ ہے۔۔سب حسین خواب دیکھ رہے ہیں۔۔لیڈروں کا اپس میں کھینچاتانی ہے۔۔کرسی کی آرزو ہے۔۔کارکنوں میں کشمکش


