چترال(نمائندہ چترال میل)انجمن پٹواریان وقانون گویان ضلع چترال کی کابینہ وجنرل باڈی کا ایک ہنگامی مشترکہ اجلاس گذشتہ روز تکمیل گھر چترال میں منعقدہوا۔اجلاس کی صدارت جنرل سیکرٹری محمد شبیر خان وسینئر نائب صدر محمود خان نے مشترکہ طوپر کی۔اجلاس کا آغاز باقاعدہ تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اجلاس میں حالیہ دنوں میں پیدا شدہ صورت حال یعنی سٹلمنٹ اسٹاف چترال کی رگولرائیزیشن کے معاملے میں تاخیری حربہ(۲) سٹلمنٹ اسٹاف چترال کے کچھ اہلکاروں کو سیاسی دباؤ پر معطلی جن میں انجمن کے صدر قادر آمان بھی شامل ہے اور ان کے بحالی کے سلسلے میں متعلقہ افسران کا سُست رویہ اختیار کرنے کا معاملہ(۳)بندوبستی ریکارڈ کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو حوالگی جوکہ سٹلمنٹ اسٹاف چترال کا کنفرمیشن کا مسئلہ وزیراعلیٰ خیبرپختوانخواہ کی طرف سے منظور ہونے کے باوجود گذشتہ ایک مہینہ سے بلاوجہ تعطل کا شکار ہے جسکی وجہ سے چترال کے206خاندانوں میں ایک غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔مذکورہ مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جسکے لئے ہم کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔اجلاس میں شراکاء نے کہا کہ اسٹاف کی معطلی کچھ مہینے پہلے چترال کے کچھ اہلکاروں کو سیاسی دباؤ پر غیر قانونی طورپر برخاست کیا گیا ہے جسکی وجہ سے اہلکاران بندوبست میں انتہائی غم وغصہ پایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں ہم روز اول سے احتجاج کرنے والے تھے لیکن سابقہ صدر قادر آمان نے ہمیں منع کیا تھا۔اب ان کی بحالی کے خلاف سیاسی ٹولے کا ایک گیم نظر آرہا ہے۔ہم آئین کے مطابق حکومت پاکستان کے ملازم ہیں نہ کہ ان سیاسی ٹولے کی۔ موجودہ وقت ہمارے لئے ایک نازک مرحلہ ہے مختلف حیلے بہانہ بناکر ہم سٹلمنٹ اسٹاف کے لئے مسائل پیداکرکے ہمارے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کی ایک منظم کوشش کی جارہی ہے جسکو ہم کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔اجلاس میں شراکاء نے کہا چونکہ بندوبست کاکام ایک نہایت مشکل ترین عمل ہے پندرہ سال سے ہم نے محنت کرکے ریکارڈ تیار کیے ہیں۔جس ضلعے میں پہلے سے پٹواری موجود نہ ہوں لینڈ ریکارڈ مینول کے مطابق موجودہ بندوبستی تجربہ گار پٹواریوں کو ضلعی محکمہ مال میں چپٹرپٹواریان کے مطابق لگادیا جاتا ہے۔لہذا پہلے ہمارے کنفرمیشن کا مسئلہ حل کیا جائے بعد میں ہم سے ریکارڈ لیا جائے۔
اجلاس میں ان نکات پر کافی بحث مباحثے کے بعد قرارداد پیش کی گئی کہ پہلے کنفرمیشن کا مسئلہ حل کیا جائے اور معطل شدہ اہلکاروں کو جلد از جلد ممکن ہوسکے بحال کیا جائے۔مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں انجمن پٹواریان وقانون گویان ضلع چترال ذیل شیڈول کے مطابق اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔8فروری کے بعد قلم چھوڑ ہڑتال کرنے کا کال دیا جائیگا۔15فروری کو چترال پریس کلب میں اس ناانصافی کے متعلق پریس کانفرنس کیا جائیگا۔اور18فروری کو چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ کے آفس کے سامنے دھرنا دیکر ایسا احتجاج کیا جائیگا جوکہ صوبائی حکومت کی بدنامی کا سبب بن سکے جس میں تمام میڈیا والوں کو مدعو کیا جائیگا۔جسکی تمام ذمہ داری متعلقہ افیسران اور صوبائی حکومت کے نمائندوں پر عائد ہوگی۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



