چترال (نمائندہ چترال میل) ضلع لویر چترال کے جنوب میں واقع دمیل میں واقع جنگل کراگرام میں فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (ایف ڈی سی)نے 2013ء میں مارکنگ کے مطابق درختوں کی کٹائی کردی مگر اب تک انہیں اٹھاکر چکدرہ ٹمبر مارکیٹ منتقل نہ کرنے کی وجہ سے دیار کی قیمتی لکڑی روان موسم میں سیلاب برد ہونے اور بوسیدہ ہوکر اپنی قیمت کھودینے کے خطرات سے دوچار ہیں جس سے حکومت اور مقامی عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان یقینی ہے۔ایک اخباری بیان میں علاقے کے جائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹی (جے ایف ایم سی) کے عہدیدار تاج محمد اور امان خان نے کہا ہے کہ ایف ڈی سی کی اس غفلت کے خلاف علاقے کے عوام نے تمام حکومتی اداروں تک اپنی فریاد پہنچادی مگر دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور دیار کی قیمتی نوع کے کٹے ہوئے سلیپر اور تنے کی شکل میں گزشتہ سال سے پڑے ہوئے اور آنے والی موسلادھار بارش کے دوران علاقے میں سیلاب آنے پر ان کے سیلاب ہونا یقینی ہے جس سے عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دمیل کے کراگرم جنگل کے لاٹ نمبر 715سے کٹے ہوئے لکڑی کو فوری طور پر ٹمبر مارکیٹ شفٹ کرنے کا انتظام کرکے حکومت اور عوام دونوں کو کروڑوں روپے کے نقصان سے بچایاجائے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


