چترال (نمائندہ چترال میل) چترال میں مختلف واقعات میں تین افراد لقمہ اجل بن گئے جن میں دو خودکشی اور ایک قتل کا واقعہ شامل ہیں۔ چترال پولیس کے مطابق قتل کا واقعہ شیشی کوہ وادی کے ٹنگیڑ میں پیش آیا جہاں ایک جوانسال شخص شوکت علی شاہ ولد نورغازی کی لاش کو دریا کے کنارے برامد کیا گیا جس کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ اس کا گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ مقتول کے ورثاء نے کسی پر دعویداری نہیں کی ہے جبکہ پولیس مختلف افراد سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔پولیس کے مطابق مقتول شادی شدہ تھے اور ان کے دو بچے بھی تھے۔ خودکشی کا پہلا واقعہ تورکھو کے اجنو کے مقام پر پیش آیا جہاں 60سالہ شخص شیرین حیات ولد شکورحیات نے مبینہ طور پر اپنے آپ کو دریا برد کردیا جس کی لاش کو گاؤں کے قریب دریا سے برامد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق خودکشی کا دوسرا واقعہ مستوج کے چوئنج میں پیش آیا جہاں پر 24سالہ نادر ولی ولد صائب علی نے اپنے گھر کے اندر 12بور بندوق سے فائر کرکے اپنی جان لے لی۔ پولیس کے مطابق خود کشی کے دونوں واقعات میں وجہ فوری طور پر معلوم نہ ہوسکی جبکہ دونوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد دفن کردئیے گئے اور مقامی ضابطہ فوجداری کے دفعہ 174کے تحت انکوائری شروع کردی ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


