چترال (نما یندہ چترل میل) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال محمد خان یوسفزئی نے دمیل چترال کے دہرے قتل کے مقدمے کا فیصلہ دیتے ہوئے دوملزمان سید الرحمن عرف بادام اور محمد رحمن عرف لئے پسران سید اکبر خان کو موت کی سزا دی ہے۔ استغاثہ عدالت کے روبرو یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ ملزمان نے مارچ 2016ء میں دمیل کے دو باشندوں شفیق الرحمن اور شاہ فیصل کا قتل کیا تھا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ بیس لاکھ روپے جرمانے کی بھی سز ا دے دی ہے جوکہ مقتولین کے ورثاء میں دس دس لاکھ روپے کے حساب سے بانٹ دی جائے گی۔ ملزمان پہلے سے گرفتار ہیں اور ڈسڑکٹ جیل میں بند ہیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


