وفاقی وزیر مملکت برائے ریو نیو حماد اظہر کو ریو نیو ڈویژن کے وفا قی وزیر کا قلمدان دو دن کے لئے ملا تھا انہوں نے حلف اٹھا یا ابھی دفتر نہیں سنبھالا تھا کہ قلمدان واپس لے لیا گیا اب اخبارات، ٹیلی وژن اور سو شل میڈیا پر اس کا غلغلہ ہے کہ دیا کیو ں تھا واپس کیوں لیاگیا؟ اخباربین حلقے جانتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم یو سف رضا گیلانی نے صبح 10بجے حکمنا مہ جاری کیا کہ ملکی سلا متی کا بڑا ادارہ وزیر اعظم کے ما تحت ہو گا مگر اس حکم کی سیا ہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سہ پہر 3بجے دوسری خبر آگئی خبر یہ تھی کہ وزیر اعظم نے اپنا حکم واپس لے لیا ہے اسپر بھی دلچسپ تبصرے ہوئے تھے ایک صا حب نے لکھا تھا کہ اوپر وا لوں نے وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر حکم واپس لینے پر مجبور کیا اس کے جواب میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفا دار بننے وا لوں نے لکھا تھاکہ یہ وزیر اعظم کے با اختیار ہونے کی نشانی ہے جب چا ہے حکم جاری کرے جب چا ہے حکم واپس لے لے یہی تو اصل آزادی ہے اس آزادی سے آپ وزیر اعظم کو بھلا کیوں محروم رکھنا چاہتے ہیں؟ سچ پو چھیئے تو قلمدان کا مسئلہ ہی کچھ ٹیڑ ھا سا ہے اور ہر حکومت میں ٹیڑ ھا رہا ہے اس لئے بھٹو کی کابینہ میں ان کے قریبی دوست خور شید حسن میر کا عہدہ وزیر بے قلمدان کا تھا وہ کا بینہ کے وزیر تھے ان کو وزیر زراعت یا وزیر صنعت کی جگہ وزیر بے قلمدان لکھا جاتاتھا خیبر پختونخوا کی ایک حکومت نے وزیر وں میں قلمدان تقسیم کرنے کی خا طر بعض محکموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے الگ الگ قلمدانوں میں بانٹ دیا مثلاً زراعت کے محکمے سے مویشی بانی کا الگ قلمدان نکا لا گیا جنگلات کے محکمے سے پرندوں، چرندوں اور درندوں کا ایک اور قلمدان پیدا کر کے اس کا نام وائلڈ لائف رکھ دیا گیا اس محکمے کے ایک وزیر کو ایک گیم ریزرو کا دورہ کرا یا گیا تو اُس نے مار خور کے ریوڑ کو دیکھتے ہی بندوق تان لی اور فائر کھول دیا جنگلات کے محکمے سے ما ہی پروری کو اور زراعت کے محکمے سے ادمدادِ باہمی کو الگ کرکے دو نئے قلمدان بنائے گئے تا کہ وزیر وں کی فوج ظفر مو ج کو کھپا یا جا سکے، ایک زمانے میں پرائمری تعلیم کا قلمدان الگ کیا گیا تھا اور ہمارے صو بے میں یہ قلمدان جس معزز رکن اسمبلی کو دیا گیا وہ نا خواندہ تھا پرائمیری تعلیم کے فروغ کے لئے جو مہم چلا ئی جا تی تھی اس مہم میں وزیر مو صوف زبان حال سے پکا ر تے تھے ”دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو“ قلمدان کا ایک دلچسپ چکر وفاقی وزارت قانون میں بھی چلا یا گیا جہاں ایک اہم ایم این اے کو قلمدان دینے کے لئے پا رلیمانی امور کو وزارت قانون سے الگ کیا گیا اور اب انسانی حقوق کو قانون کی وزارت سے الگ کیا گیا ہے تا کہ قلمدان بر آمد ہو اور کسی مستحق کے حو الے کیا جائے اب وزارت خزانہ کے حصے بخرے ہو رہے ہیں فی الحا ل ریو نیو، محصو لات یعنی آمدن کو وزارت خزانہ سے الگ کرنے کی مہم چل رہی ہے سابق گورنر سٹیٹ بینک شمشاد اختر کو معا ون خصو صی کے طور پر لا یا گیا ہے اب اس کے لئے بھی محکمہ ڈھونڈ لیا جا ئے گا یا دش بخیر اسد عمر بجٹ اجلاس سے پہلے وزارت خزانہ سے مستعفی ہوگئے تو ان کے جانشین عبدا لحفیظ شیخ پا ر لیمنٹ کے رکن نہیں تھے اس لئے ان کو خزا نے کے لئے وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا مگر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ پار لیمنٹ کے اندر ایک غیر منتخب شخص بجٹ پیش نہیں کر سکتا اس کا یہ حل تجویز ہو اکہ وزیر مملکت حماد اظہرکے ذریعے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا گیا اور بجٹ پا س ہوا تو اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ وزیر مملکت کو
پوری وزارت کا قلمدان دیا جائے جب ایساہوا تو حماد اظہر کو پورے اختیا رات کے ساتھ ریو نیو کا وزیر بنا یا گیا لیکن اُن کے حلف اٹھا نے کے بعد پتہ چلا کہ عبد الحفیظ شیخ نا راض ہو گئے ہیں اس لئے چند گھنٹوں کے بعد یہ حکم وا پس لیا گیااب حماد اظہر خو ش ہونگے کہ ”ایمان بچ گیا میرے مو لا نے خیر کی“ مگر بات اس قدر سادہ بھی نہیں حماد اظہر چپکے سے گھر نہیں جائینگے بلکہ پردہ نشینوں کو لیکر جائینگے قلمدان کا قضیہ آساں قضیہ نہیں اس پر کئی حکومتیں گھر بھیجدی گئی ہیں اس وقت بھی نئے قلمدان کے انتظا ر میں کئی اہم شخصیات بیٹھی ہوئی ہیں ایک انار 100بیمار وا لا معا ملہ ہے اس معا ملے کو جتنا سلجھا یا جا تا ہے اتنا ہی معا ملہ اُلجھاؤکا شکا ر ہو تا ہے ؎
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے تو بہ
ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہو نا
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



