چترال (نما یندہ چترال میل) اہلسنت و الجماعت نے چترال میں منعقد ہونے والے دینی اجتماعات کیلئے ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ بدھ کے روز اہلسنت الجماعت چترال کے امیر حافظ مولانا خو ش ولی خان نے جماعت کے دیگر رہنماؤں سرپرست اعلی مولانا سراج الدین، جنرل سیکرٹری مولانا جاوید الرحمن، قاری خلیل الرحمن، قاری عنایت الرحمن، مولانا نوراللہ، مولانا فدا الہی، مولانا منظور نعمانی وغیرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ کہ شاہی مسجد چترال اور جامع مسجد گیسو کھوت میں دینی اجتماعات کے سلسلے میں ہمارے مرکزی قائدین کی چترال آمد کا پروگرام تھا۔ اور اس سلسلے میں اجازت حاصل کرنے کیلئے ہم نے چترال کے ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی اداروں سے رابطہ کیا۔ جس پر انہوں نے پہلے تو زبانی اجازت دی لیکن عین موقع پر نہ صرف مہمان علماء کو چترال آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا، بلکہ مقامی سطح پر بھی ہمیں طے شدہ اجتماع منعقد کرنے سے روک دیا گیا۔ جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حافظ خوشولی خان نے کہا۔ کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ چترال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیاہے۔ اور چترال میں تمام مکتبہ فکر اور عقائد کے حامل افراد کے ساتھ رواداری، اخوت بھائی چارے کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اور اسی طرح سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون سے بھی کبھی پہلو تہی نہیں کی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کے باوجود اُن کے پر امن اجتماع کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے انتطامات میں اُن کے کئی وسائل بھی ضائع ہوئے۔ انہوں نے کہا۔ کہ جب انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور دیگر آفیسران سے اہلسنت الجماعت کے کراچی، بٹگرام، ہنگو اور دیر وغیرہ شہروں میں منعقد کئے گئے اجتماعات کے حوالے سے پوری تفصیل ثبوت کے ساتھ پیش کئے۔ تو وہ قائل ہو گئے۔ اور مجھے یقین دلایا۔ کہ اجازت دی جائے گی۔ لیکن عین موقع پر ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر اجازت دینے سے انکار کیا گیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ اگر اہلسنت الجماعت کے دینی اجتماعات پر پابندی ہے۔ تو متذکرہ بالا شہروں میں ان اجتماعات کی اجازت کیوں دی گئی۔ اور چترال میں کیونکر نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے سے اُن کے جملہ کارکنان انتہائی دلبرداشتہ ہوئے ہیں۔ اور وہ سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر اب بھی بہ زد ہیں۔ لیکن ہم نے چترال کے امن کی خاطر کارکنان سے صبر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا۔ ہم اس کو ایک سازش سمجھتے ہیں۔ جو کسی کی شرارت پر ایسا گیا ہے۔ کیونکہ اہلسنت الجماعت کے تعلقات موجودہ حکومت سے کافی بہتر ہیں اور اہلسنت الجماعت کے قائد نے اپنے دیگرساتھیوں سمیت پنجاب اسمبلی میں اپنا ووٹ ریاست مدینہ کی تشکیل کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم عمران خان کے امیدوار کو دیا تھا۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج نہ ریاست مدینہ ہے، او ر نہ مدینہ والوں کے کا م ہیں۔۔اور دینی محافل کے انعقاد کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ آ یندہ اس قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے باز رہا جائے۔ پریس کانفرنس میں اسلام آبادکے صحافی بلال کے قتل کی بھی پُر زور مذمت کی گئی۔
تازہ ترین
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”موشگافیاں “
- ہومچترال پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا شاندار افتتاح کیک کاٹ کر کر دیا گیا، جس میں مختلف ٹیمیں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئیں
- ہوم*لوئر چترال پولیس کی جانب سے لیویز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس لائن لوئر چترال میں خصوصی ٹریننگ پروگرام کا انعقاد
- مضامینچترال کی نمائندگی کا بحران: قید، خلا اور عوامی حقوق کا سوال۔۔بشیر حسین آزاد
- ہومانتقال پر ملال۔۔۔۔۔ استاد شمس الدین انتقال کر گئے
- ہومایک ماہ سے زائد عرصے تک عارضی طور پر ارندو چھوڑ کر دروش اور دیگر علاقوں میں قیام پذیر رہنے والے مقامی افراد بالآخر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔
- ہومسول آرمڈ فورس (CA F) کا آیون میں اجلاس، صاحب نادر ایڈوکیٹ مہمان خصوصی، سابق چیرمین جندولہ خان کو حسن کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا، یو سی آیون کیلئے آرنریری کیپٹن زاہد حسین بلا مقابلہ چیرمین منتخب
- مضامینمنشیات کے خلاف اقدامات: وقتی حل یا مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت؟۔۔۔بشیر حسین آزاد
- ہوملوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم اعظم کی قیادت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا
- مضامینچترال میں منی ایکسچینج سہولیات کی اشد ضرورت۔۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد



