چترال (نمایندہ چترال میل) گولین گول ہائیڈرو پاور کی ہائی ٹرانسمیشن لائن کے ایون متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ ٹاورز کی تنصیب کے دوران تین سالوں تک اُن کی زمینات کو بطور راستہ استعمال کرنے کے باوجود ابھی تک اُنہیں زمین اور فصلوں کے نقصانات کے عوض کوئی آدئیگی نہیں کی گئی۔ اور وہ تاحال در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لہذا اُن پر رحم کھاتے ہوئے گولین ہائیڈل کے ذمہ داروں کو فوری آدائیگی کے احکامات صادر کئے جائیں ۔ درجنوں متاثرین کی نمایندگی کرتے ہوئے محکم الدین، رحمت ولی خان، واجب الدین ودیگر نے میڈیا کو بتایا۔ کہ تین سال پہلے گولین ہائیڈل پاور سٹیشن کے مین ٹرانسمیشن لائن چترال سے دیر لے جاتے ہوئے ٹاورز کی تنصیب کیلئے ایون میں اُن کی زرعی آراضی اور کھڑی فصلوں کو روندتے ہوئے ٹاور کے سامان اور دیگر میٹریل لے جانے کیلئے راستہ بنایا گیا۔ اور انہوں نے عظیم تر قومی مفاد کی خاطر متعلقہ ادارے کے کارکنوں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا۔ اور نتیجتا آج چترال سے اُن ہی ٹاور کے ذریعے بجلی ضلع سے باہر جا چکی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ جن کی تین فصلیں ٹاورز کی تنصیب کے دوران متاثر ہوئیں۔ اُن کے نقصانات کے عوض کوئی رقم تاحال ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا۔ کہ افسوسناک امر یہ ہے۔ کہ نقصانات کی ریکارڈ مرتب کرنے والے تحصیلدار نے متاثرین کو پیشگی اطلاع دیے بغیر علاقے کا پہلے دورہ کیا۔ اور فہرست بنا لی۔ جس میں کئی متاثرین اندراج سے محروم رہے تھے۔ اُس کے بعد متاثرین نے دوبارہ درخواست دے کر نقصانات کی نشاندہی کی۔ لیکن متاثرین کے اس فہرست کو بھی ایک سال ہوگئے ہیں۔ کوئی ادائیگی تاحال نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا۔ اگر قانون میں واپڈا کو بغیر معاوضے کے ہر کسی کے زمین نقصان کرنے کا اختیار موجود ہے۔ تو متاثرین کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔ بصورت دیگر متاثرین کو مزید دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ واپڈا حسب روایت سفید ہاتھی کا رویہ اپنا کر غریب متاثرین کو معاوضے سے دانستہ طور پر محروم کر رہا ہے۔ جس سے متاثرین میں حکومت اور واپڈا کے خلاف اتنہائی مایوسی پھیل گئی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور متاثرین کو فوری انصاف مہیا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان سے بھی اس کو نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی زیرِ صدارت اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد
- ہومڈی پی او چترال اپر کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ، منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات
- مضامیندادبیداد۔ مسائل کا حل۔ ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ پولیس لویر چترال کی طرف سے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں چترال تحصیل کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی
- ہومنیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ حاصل کرنے والی طالبہ کی حوصلہ افزائی، ڈی پی او چترال اپر کی جانب سے کمنڈیشن سرٹیفکیٹ اور کیش ریوارڈ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔قناعت سب سے بڑی نعمت۔۔۔محمد جاوید حیات
- مضامیندادبیداد – نظم و نسق کی کامیابی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
- ہومڈی پی او لوئر چترال کی جانب سے کھلی کچہری کا انعقاد،،یہ کھلی کچہری بروزِ بدھ، شام 4:00 بجے پولیس سہولت مرکز زرگراندہ، لوئر چترال میں منعقد ہوگی
- ہومڈی پی او چترال اپر کی جانب سے ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب
- ہومچترال کے خوبصورت سیاحتی مقام گرم چشمہ کے نوجوان آرٹسٹ شیر احمد المعروف شیرو کی یاد میں علاقے کے ممتاز درسگاہ پامیر پبلک سکول اینڈ کالج میں ایک روزہ آرٹ ایگزبیشن کا انعقاد ک










