چترال (نما یندہ چترال میل) یونیورسٹی آف چترال نے ریسرچ کے شعبے میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور یونیورسٹی کے زیر اہتما م جرنل آف ریلیجیس سٹڈیز کے نام سے پہلا ریسرچ جرنل منظر عام پر آگیا ہے ۔ جس میں پاکستان سمیت ہالینڈ، برطانیہ، ملائشیا اور اردن کے جامعات سے تعلق رکھنے والے تقریبا پچپن ممتاز پروفیسرز، محققین اور ریسرچ سکالر ز نے اپنی تحقیقات شا ئع کی ہیں۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی آف چترال کے پبلک ریلیشن آفس سے جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق چیف ایڈیٹر اور پروجیکٹ ڈایریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری کا کہنا تھا کہ جرنل کا بنیادی مقصد بین المذاہب مکالمے کا فروغ اور دینی علوم میں عصری آگہی کو پروان چڑھانا اور فکری جمود کا خاتمہ کرنا ہے، نیز دورحاضر کے علمی ودینی مسائل کے حوالے سے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بحث ومباحثہ کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ چترال جرنل آف ریلیجیس سٹڈیز کے ذریعے معاشرے میں سیاسی، سماجی، اقتصادی اور اخلاقی شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اوربنی نوع انسان کو مذہبی شعور بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کا درس بھی دے گا تاکہ تکثیریت پر قائم ایک پرامن عالمی معاشرہ وجود میں آسکے۔
ایڈیٹر ڈاکٹر ضیا ئالحق کے مطابق جرنل آف ریلیجیس سٹڈیز اردو، عربی اور انگریزی کے تین حصوں پر مشتمل ہے اور ریسرچ پیپرز کا انتخاب خالص میرٹ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے اور آرٹیکلز کے چناو میں قومی وبین الاقوامی ممتاز پروفیسر ز اور محققین کی مدد لی گئی ہے۔ شائع ہونے والے آرٹیکلز نہ صرف تحقیقی، تخلیقی اور فنی صفات کے حامل ہیں بلکہ عصر حاضر کی جدید ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات و واقعات کی مکمل ترجمانی بھی کرتے ہیں، ملکی وبین الاقوامی سطح پر علمی حلقوں میں جرنل کی اشاعت کی بہت حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ، ان کے مطابق جرنل کی اشاعت کی منظوری کے ساتھ ہی قومی و بین الاقوامی تحقیقی اداروں سے سینکڑوں ریسرچ پیپرز مجلہ کے ادارتی عملے کو موصول ہوئے جن میں محتاط انداز میں چھان بین اور ادارتی مشاورت کے بعدپہلے دو شماروں کے لیے ۲۸ ریسرچ پیپرز کو ہائر ایجوکیش کمیشن (HEC)کے معیار کے مطابق Plagiarism کے جدید سوفٹ وئیر سے گزار کر پیرریویو (Peer-Review) کے بعد اشاعت کے لیے چنا گیا ہے ۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرنل آف ریلیجیس سٹڈیز ایک Open Access جرنل ہے لہذا افادہ عام کی غرض سے تمام ریسرچ پیپرز کو یونیورسٹی کے ویب سایٹ (www.jrs.uoch.edu.pk) پر اپ لوڈ کردیا گیا ہے ۔ جہاں سے مطلوبہ ریسرچ آرٹیکلز کو فری ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرنل آف ریلجیس سٹڈیز پہلا قومی جرنل ہے، جسے ریفرنسنگ اور سائٹیشن کے لیے crossref.org سمیت متعدد بین الاقوامی ریسرچ نیٹ ورکس کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے اور انٹرنیشنل کاپی رائیٹس لائسنس (CC BY 4.0) کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔
یاد رہے کہ یونیورسٹی چترال کے دیگر شعبہ جات کے ریسرچ جرنلز بھی اشاعت کے آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں مزید ریسرچ جرنلز منظرعام پر آجائیں گے۔
تازہ ترین
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔الھم لبیک
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کی زیرِ صدارت کرائم میٹنگ کا انعقاد
- مضامیندھڑکنوں کی زبان۔۔محمد جاوید حیات۔۔چترال ماڈل کالج ایک معتبر تعلیمی اداره
- ہومچترال شہر میں سیزن کی پہلی برفباری، لواری ٹنل ایریا میں دس انچ برف، انتظامیہ کی احتیاطی ہدایات
- ہومدادبیداد۔ جنگ کے ترانے۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی
- ہوملوئر چترال پولیس کا منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- مضامیندھڑکنوں کی زباں”سریر شفگتہ اور کالی وردی “۔۔محمد جاوید حیات
- ہومصوبہ بھر میں غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر معیاری ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
- ہومموڑدہ آیون کے پاس دریا کا رخ تھوڑیاندہ اور درخناندہ کو براہ راست ہٹ کر رہا ہے، چینلائزیشن کرکے اس کی روانی کو سنٹر میں ڈالا جائے ، ورنہ شدید تباہی کے خطرے سے دوچار ہونگے۔ متاثرین ایون ویلی





