19 نومبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مردوں کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ جس کا آغاز19 نومبر 1999سے ہوا۔ اس دن کو منانے کا مقصدمعاشرہ اور خاندان میں فرد کی حیثیت کو اجاگر کرنا، نوجوانوں میں بہتر صحت، مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک، خاندان، برادری اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی شراکت، اور انسانی اقدار کو فروغ دینا ہے۔اس موقع پر دنیا بھر میں مختلف قسم کے سیمینارز،کانفرنسوں اور تقریبات کا ا ہتمام کیا جارہاہے۔جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا۔
عمومی زندگی میں مرد حضرات ہی دن رات محنت کرکے اپنے خاندان اور ملک کی ترقی کیلئے کردار ادا کرتے ہیں تاہم ان کے حقو ق اور مسائل پر کم توجہ دی جاتی ہے اس سلسلہ میں بیداری کیلئے تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ مختلف مکتبہ فکرکے لوگ ملک کی ترقی کے لئے مرد حضرات کی خدمات کو اجاگر کریں اورنوجوان نسل کو بہتر تعلیم،روزگار کے زیادہ مواقع اچھی صحت اور زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے مدد کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ان کی ترقی کیلئے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
مردحضرات کاعالمی دن مناناعجیب محصوس ہوتاہے مردحضرات خاص کرشعراء اپنی زندگی کا مقصدبھول کرصنف نازک کی داستان لکھنے میں مصروف نظرآتے ہیں۔مردوں کی شاعری میں اپنی پسندیدہ شخصیت کی خوبصورتی کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان کی بے وفائی کا رونا بھی ہوتا ہے اوروہ ہر وقت اس بے وفائی کے خیال سے آہیں بھرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں میں ان محبوب یا پسندیدہ صنف مخالف کی خوبصورتی اور ادائیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگرکسی صنف نازک نے مرد حضرات کی تعریف میں کوئی شعر نہیں لکھا۔
لکھاری حضرات کوشش کرکے عورتوں کے مظلومیت کی داستان ہو یا عالمی دن ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کچھ ایسا لکھے کہ بازی لے جائے۔مگرمردوں کے دکھ درد اورہونے والے ظلم کی داستان کوپوچھ کرلکھنے والا بہادردوربین میں بھی نظرنہیں آتے ہیں۔مردحضرات شاپنگ سینٹرز میں بچوں کو گود میں اٹھائے شاپنگ بیگ سنبھالے بیویوں کے پیچھے چلتے چلے جاتے ہیں، آخر میں ایک رومال بھی نہیں ملتا ہے پسینہ پوچھنے کے لئے۔دن رات محنت کرکے اُن کی خواہشیں پوری کرتے ہیں۔پسماندہ علاقوں کے مردسال بارہ مہینے محنت مزدوری کرتے وقت دیش سے پردیسی کی مشکل لمحے کاٹ کرزندگی کے آیام گزارتے ہیں۔جولوگ گھرسے باہروقت گزاراہے اُن کوپردیسی کااحساس ہوگا۔بال بچوں کوپالنے اورگھرکاچراغ جلانے کے لئے مرد خطرناک اور محنت طلب پیشے اختیارکرتے ہیں۔پردیسی کاغم بھلانے کے لئے
نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں، ورزش میں کمی جیسے مسائل بھی مردوں کی عمر گھٹانے،صحت کی خرابی کا سبب بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مختلف مراض کاشکاربھی ہوتاہے۔انسانیت کے نام پرخدمت کرنے والے اداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مردوں کی صحت،روزگاراوردیگرمسائل پرتوجہ دی جائے۔
دنیا کہ اسٹیج پر سب سے خوبصورت کردار عورت کا ہے اتنا بڑا اعزاز عورت کو دینے والا مرد ہی تو ہے۔ مرد چاہے باپ، بھائی، بیٹا شوہر یا کوئی بھی رشتہ رکھتا ہو اپنے گھر کے اس مضبوط سائبان کی قدر کیجئے۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



