پشاور (نما یندہ چترال میل)چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے صوبے کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ ہر ڈپٹی کمشنر اپنے متعلقہ ضلع میں خود کھلی کچہریوں میں شرکت کو یقینی بنائے۔اس حوالے سے پرفارمنس مینجمٹ اینڈ ریفارمز یونٹ سے تمام ڈپٹی کمشنروں کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔مراسلے کے مطابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو کئی اضلاع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ ڈپٹی کمشنرز بذات خود کھلی کچہریوں میں شرکت نہیں کرتے بلکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں کو کھلی کچہریوں کے انعقاد کی نگرانی سونپ دیتے ہیں جس پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تما م اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام ڈپٹی کمشنرز خود کھلی کچہریوں میں شرکت کرکے عوام کے مسائل سنیں گے اور فوری حل کے لئے اقدامات اٹھائیں گے۔کھلی کچہریوں میں عدم موجودگی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈپٹی کمشنروں کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی۔یاد رہے 10اکتوبر2017ء کو کھلی کچہریوں کے حوالے سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے تمام ڈپٹی کمشنروں کو اجلاس کے دوران ہدایت کی تھی کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لئے کھلی کچہریوں کا انعقاد کرکے عوام کے مسائل کو سنیں اور فوری حل کے لئے اقدامات اٹھائیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


