چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے صوبہ کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں پولیو کے خاتمے کی اقدامات کے بہترین نتائج کے حصول کے لئے مسلسل کاوشیں جاری رکھیں بالخصوص ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے جہاں افغانستان یا پولیو کے حوالے سے ہائی رسک علاقوں سے لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسداد پولیو کے حوالہ سے پراونشل ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں انسداد پولیو کے لئے مرکزی حکومت کی فوکل پرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق، نیشنل ای او سی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر، کمشنر پشاور ڈاکٹر فخرعالم، سیکرٹری محکمہ صحت محمد عابد مجید، کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبرپختونخوا عاطف رحمان، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اکرم شاہ، یونیسیف کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر جوہر خان،ہما عارف خان، بی ایم جی ایف کے ڈاکٹر امتیاز علی شاہ، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ناصر عبدی، ڈاکٹر اعجاز علی شاہ، صوبہ بھر کے ڈویژنل کمشنرز اور تمام ڈپٹی کمشنرز سمیت متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ سینیٹرعائشہ رضا فاروق نے پولیو کے خاتمہ کے لئے خیبر پختونخوا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا نے مختصر عرصہ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کے لئے خیبرپختونخوا حکومت بالخصوص وزیراعلی پرویز خان خٹک، چیف سیکرٹری محمد اعظم خان، محکمہ صحت، ڈویژنل اور اضلاع کی انتظامیہ، ای او سی خیبرپختونخوا، تمام معاون ادارے اور دن رات محنت کرنے والیپولیو ورکرز لائق تحسین ہیں ان کامیابیوں کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور اعتراف کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ 2017 کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر پولیو کے8 کیس سامنے آئے جن میں 5 ایسے بچے تھے جنہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا گیا تھا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ انکاری والدین کو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے پر آمادہ کیا جائے۔چیف سیکرٹری محمد اعظم خان نے پراونشل ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پھول جیسے بچوں کو پولیو کے ہاتھوں معذوری سے بچانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں قومی ای او سی اور معاون اداروں کا تعاون قابل قدر ہے انہوں نے یقین دلایا کہ انسداد پولیو کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دی جائے گی اور آئندہ عام انتخابات میں بھی پولیو کے خاتمہ پر توجہ مبذول رکھی جائے گی چیف سیکرٹری نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ پولیو کے خاتمہ کے اقدامات کے بہترین نتائج کے حصول کے لئے مسلسل کاوشیں جاری رکھیں بالخصوص ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے جہاں افغانستان یا پولیو کے حوالے سے دیگر ہائی رسک علاقوں سے لوگوں کی منتقلی ہوتی رہتی ہے۔
تازہ ترین
- ہومماڈل یوناٸٹیڈ نینشنز کانفرنس Model United Nations Conference,(MUN) الخدمت فاٶنڈیشن اسکول قتیبہ کیمپس چترال میں (MUN) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا
- مضامینپھول جیسے بچپن پر ظلم: بچوں سے مشقت اور بھیک منگوانے کا بڑھتا ہوا رجحان۔۔تحریر: بشیر حسین آزاد
- ہومضلع لوئر چترال پولیس میں 07 نئے جوان شامل، ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان (PSP) نے تقرر نامے تقسیم کر دیے۔
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومچترال اسکاؤٹس نے چترال لیویز کو 1 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرا کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی
- ہوم*پرنس رحیم آغا خان کے دورہ لوئر چترال کے سلسلے میں آر۔پی۔او ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کا تھانہ لٹکوہ اور دیدار گاہ گرم چشمہ کا دورہ، سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ
- مضامیندھڑکنوں کی زبان ۔۔محمد جاوید حیات ۔۔”یہ سسٹم کیا بلا ہے “
- ہومچترال لوئر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سینئر کی سیٹ سات ماہ سے خالی، عوام و کنٹریکٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا
- ہومچترال میں اگیگا کا احتجاجی مظاہرہ، مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی



