چترال (نمائندہ چترال میل) شیشی کوہ دروش کی رہائشی پیر محمد امین نے وزیر اعلیٰ اور صوبائی پولیس افیسر سے شیشی کوہ کی رہائشی وزیر اعلیٰ ا ور ان کے بیٹوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جوکہ اس سال مئی میں ان کے گھر کو مبینہ طور پر نذر آتش کردیا تھا۔ بدھ کے روز یہاں جاری شدہ ایک اخباری بیان میں بیلہ شیشی کوہ کی رہائشی پیر محمد امین نے کہا ہے کہ ان کے مخالفین وزیر اعلیٰ ولد ملنگ نے اپنے بیٹے حضرت الدین اور بھائی اسرار اور دوسروں کی مدد سے ان کے گھر کو اس وقت آگ لگادی جب وہ اپنے بھائی کی اہلیہ کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا مخالفین کے ساتھ گاؤں میں واقع ایک قطعہ گھاس پر تنازعہ چلاآرہا تھا جوکہ ان کا پدری جائداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہسپتال سے واپسی پر مخالفین کے خلاف پولیس پوسٹ شیشی کوہ میں درخواست دی گئی توابھی تک تین ماہ گزرنے کے باجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور مقامی پولیس اہلکار الٹا ان کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس نے تمام پولیس افیسروں سے شنوائی کی اپیل کی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی پولیس افیسر سے اس واقعے کا نوٹس لینے اور انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


