”
چترال یونیورسٹی کے خوبرو،نوجوان پروفیسر حفیظ اللہ ایک عالمی کانفرس میں شرکت کے لیے چینا گئے کچھ مہینے پہلے کی بات ہے۔وہاں پر ان کی پریزنٹیشن بھی تھی۔ساری دنیا سے سکالرز جمع تھے چینا جیسے ترقی یافتہ ملک میں اجتماع تھا موقع تھا کہ چینا کی ترقی دیکھا جاۓ۔اس ترقی کرنے کا راز بھی سمجھا جاۓ۔اس قوم کی اور دنیا کے ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کے راز کا اندازہ لگایا جاۓ۔نوجوان پروفیسر حفیظ اللہ کو یہ موقع ملا تھا۔أرزو تھی کہیں حفیظ صاحب سے ملاقات ہو جاۓ پوچھا جاۓ تاثرات لیا جاۓ۔اکسپوجر زندگی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں۔۔
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں۔۔
سر راہے پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی۔۔ قریبی ہوٹل میں عصر کی چاۓ پینے بیٹھ گئے۔سفر حضرکاحال موضوع گفتگو رہا۔پروفیسر نے نہایت درد سے کہا۔۔سر قوموں کی ترقی کا راز پا کے آیا ہوں۔صرف تین باتیں ہیں جو دین اسلام کی روح ہیں۔پہلا راز عاجزی اور انکساری ہے تمہیں ادمی کا بڑاپن انکساری،علمیت اور ہنر میں نظر آۓ گا۔ان کا بڑاپن،عہدے،چکمتی گاڑی،جائیداد دھن دولت میں نظر نہیں آۓ گا۔ان کا انداز گفتگو نرم،سافٹ، مہذب،شائستہ اور دلنشین ہوگا۔وہ نہ اپنی علمیت جتاۓگا نہ دولت عہدہ شو کرے گا نہ خاندان سے تمہیں مرغوب کرنے کی کوشش کرے گا۔ان کی ذات میں فرغونیت نہیں ہوگی۔دوسری چیز وہ ہر کام کے کرنے کا حق ادا کرتیہیں۔استاذاستاذی میں جتا رہے گا۔۔سیاستدان کے پاس ایک قومی وژن،خدمت کا جذبہ، دیانت،اجتماعی سوچ،مستقبل بینی ہوگی وہ اپنی ذات بھول چکا ہوگا اس کے سامنے قومی غیرت ہوگی وہ اپنی قوم اور ریاست کو دنیا کے سامنے نمایان کرنے کوشش میں لگا ہوگا۔۔اس قوم کا ہر فرد اس قوم کی پہچان اور نمائندہ ہوگا وہ اپنے کردار سے اپنی قوم کا تعارف بنے گا۔وہ کردار کی سچائی پہ یقین رکھے گا۔وہ اپنے اداروں اور محکموں کو مضبوط کرے گا۔تیسری اہم چیز فرض شناسی اور وقت کی قیمت اور اپنے کام سے مخلص ہونا دیکھا۔وہ اپنا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے۔اگر أپ بغیر کس وجہ کے کسی ادمی کی طرف دیکھیں بھی وہ ماینڈ کرے گا راستے میں خیر خیرت پوچھنے کے لیے فضول کھڑے ہو کر وقت ضاٸع کرتا۔ڈیوٹی ٹائم پر اپنا اور قوم کا وقت ظائع کرنا ان کا شیوا نہیں۔بڑے سے بڑا أدمی اپنی ڈیوٹی کے مقررہ وقت سے پہلے کام کی جگہ پہنچتا ہے۔وہاں پر کام زیادہ اور میٹنگیں کم ہوتی ہیں یہ کہتے ہوۓ پروفیسر کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ کائنات کے مطالعے میں لگے ہوۓ ہیں وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔وہ دنیا کو اپنے لیے جنت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے اپنے اردگرد کو پاک رکھا ہے اگلے چند سالوں میں ٹریفک کا شور بھی ختم ہو جاۓ گا الیکٹرک کی دنیا بہت ترقی کرے گی۔وہ صرف احترام کرنا جانتے ہیں ان کو تجھ سے کوئی لینا دینا نہیں بس تجھ سیشرافت سے ملے گا اور ڈیو رسپکٹ دے گا۔سوچیں بلند ہیں الودہ نہیں۔جس کا جو میدان ہے وہ اس پیرامیٹر کے اندر رہے گا۔پروفیسر نے کہا۔۔میرا میدان بیالوجی ہے میں اس میں مہارت پیدا کرنے کی بجاۓ سیاست پہ لمبی چوڑی تقریر کروں گا فیس بکی دانشور بنوں گا۔ میں سوچوں گا کہ میں ہر لحاظ سے سب سے بڑأ ہوں سب بونے ہیں۔یہی احساس برتری ہماری احساس کمتری اور چھوٹا پن ہے۔پروفیسر کو قلق ہے کہ ہم بحیثیت قوم باصلاحیت اور ذہین ہیں مگر تربیت ہماری زیرو ہے ہمارے دین مبین کی اصل روح تربیت ہے۔ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں ہمارے پاس بے مثأل سر زمین ہے معدانیات کی دولت سے ہم مالامال ہیں مگر ہماری غیر ذمہ دارانہ رویے نے ہمیں تباہ کردیا ہے۔ ہماری تاریخ،سچائی اخلاص اور محنت سے بھری پڑی ہے مگر ہم راستہ کھوچکے ہیں ہم منزل کی سمت کھوچکے ہیں۔ہمارے تعلیمی اداروں میں خاکبازی کا سبق دیاجارہا ہے۔نکماپن ہماری گھٹی میں پڑی ہے۔ہم دھوکے میں ہیں۔۔بڑے درد سے مسکرا کرکہا سر۔۔۔امتحان میں نقل کرتے ہیں۔۔تب ہماری پوری زندگی نقل کی لت میں گزر رہی ہے۔۔پروفیسر اپنیمحاسبے کے درد سے بھی گزررہا تھا قوم کا درد بھی ساتھ ساتھ اس کو تڑپا رہا تھا۔۔میں نے کہا۔۔پروفیسر صاحب جو کچھ أپ سے ہو سکتا ہے وہی دائرہ کار اور دائرہ اختیار ہے آگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔شکر ہے آپ نے تو راز پالیا ہے۔گریڈلن پو۔۔۔یوریکا یوریکا پکار کے دوڑ رہا تھا۔۔۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



