شاہی جامع مسجد چترال کے خطیب مولنا خلیق الزمان صاحب نے گزشتہ جمعہ کی اپنی تقریر میں افغان مہاجریں کی وطن واپسی کا تذکرہ کرتے ہوئے باہمی امور اور لین دین کو اسلامی تصورات کے مطابق نمٹانے کی ضرورت پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ کیونکہ اسلام میں باہمی معاملات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے مشغق پیغمبرنے قرضدار کے قرض کی ادائیگی کے بغیر اس کا جنازہ پڑھنے سے انکار کئے ہیں۔ یوں افغان مہاجریں کا ایک طویل عرصہ زندگی کے شب وروز ہمارے ساتھ گزارنے کی بنیاد پر باہمی معاملات کے سلسلے میں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی اہمیت قابل توجہہ بنتی ہے۔
مہاجر اور انصار دو ایسے الفاظ ہیں جن سے منسوب افراد نے دنیا کو باہیمی محبت،رواداری اور خاطر داری کے ایسے اوصاف دکھائے جن سے رہتی دنیا تک زبان کو یہ الفاظ حلاوت بخشے رہینگے۔ اور دنیا کی کوئی قوم ان الفاظوں سے منسوب کرداروں کا نقشہ پیش نہیں کرسکتی جن کا مظاہر ہ تاریخ اسلام کے ابتدائی ایام میں کیا گیا۔ اس تناظر میں ہم چترال کے مکینوں نے بھی اپنے افغان بھائیوں کو ان کی ازمائش کے دنوں میں سینے سے لگانے میں کسی قسم کے بخل کو اپنے قریب پھٹنکنے نہیں دیئے۔ اور اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے اتنی وسعت قلبی کا مظاہر ہ کئے کہ اجنبیت کے تصور کو پس پشت ڈال کر اپنی بیٹیاں بھی ان کے نگاہ میں دیں۔ انہیں کبھی بھی اجنبی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ اپنے معاشرے کے اندر عزت واحترام اور قدردانی کے ساتھ زندگی گزارنے کی تمام سہولتوں سے بلا امتیاز مستفید ہونے میں کوئی روکاوٹ نہ ڈالی۔ اور مہاجر بھائی /صحبت کے اثر کی بنیاد پر اجنبیت کے لبادھے کو پھاڑ کر اپنائیت کے رنگ میں خود کو رنگین کرکے زندگی کے ایام ہمارے ساتھ گزارے۔ہماری تہذیب اور مزاج کے ساتھ ساتھ ہماری زبان کی قدردانی کی اور کھوار بول چال میں غیر اہل زبان کے رنگ کو مٹا کر رکھدیئے۔ سب سے زیادہ قابل تعریف عمل جو ان کی ہمارے ساتھ قیام کے دوران دیکھنے کو ملا وہ ان کی قناعت اور قوت برداشت کو حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدا کے دوران کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھیگ مانگنے کی خباثت سے اپنا دامن بچائے رکھے۔ جو غیرت مندی کی اعلی ترین مثال ہے او رساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں محنت کے ایسے جو ہر دکھائے۔جو یقیناً ہمارے لئے مشعل راہ کے ھامل ہیں۔ مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دینے کی قرآنی تصور کی بنیاد پر ایک طویل عرصے ایک ساتھ گزارنے کے بعد آپس کی جدائی کا احساس ایک عرصے تک ذہین پر سوار رہنا یقینی امر ہے۔ التبہ اپنے ساتھ گزر ے ہوئے لمحات میں بحیثیت میزبان اپنی کسی قسم کی کوتاہی سے معذرت خواہی ہمارا اخلاقی فریض ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے مہاجر بہن بھائیوں کو اپنی جنم بومی میں زندگی کی لذتوں سے سرفراز رکھے۔ آمین
تازہ ترین
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری
- ہومٹریفک پولیس ڈرائیونگ سکول لوئر چترال کا آٹھواں بیچ کامیابی کے ساتھ مکمل


