چترال (نمائندہ چترال میل) پولو ایسوسی ایشن چترال کے صدر شہزادہ سکندر الملک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ماہ منعقد ہونے والی پولوٹورنامنٹ میں سول اور فورسز کی ٹیموں کے درمیان الگ الگ مقابلے کرائے جائیں تاکہ اپنے شوق اور بھاری اخراجات سے پولو کھیلنے والے کھلاڑیوں کی ٹیلنٹ سامنے آسکے اور چترال میں پولو کھیلنے والوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کی ہٹ دھرمی سے پورا نہیں ہورہا ہے۔ اتوار کے روز چترال پریس کلب میں ایسوایشن کے سینئر ممبران اور چترال کے کونے کونے سے آنے والے پولو ٹیموں کے کپتانوں معیز الدین بہرام، حکیم سرور، مختار لال، الطاف علی شاہ، مستفیض الرحمن، آفتاب عالم اور دوسروں کی معیت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے22مئی سے شرو ع ہونے والی ٹورنامنٹ کے حوالے سے یکطرفہ طور پراعلان کرتے ہوئے کہاکہ 19مئی کو سول پولو ٹیموں کا الگ ٹاس ہوگااور انتظامیہ کے نہ ماننے کے باوجود سول ٹیموں کا الگ پول بنایاجائے گاجہاں سول ٹیموں کے درمیان الگ مقابلے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں پولو کے کھلاڑی وسائل نہ ہونے کے باوجود اس مہنگا ترین کھیل کے شوق کو پورا کررہے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے گھوڑا الاونس نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کے باوجودو ہ چترال کی اس روایتی کھیل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جبکہ انتظامیہ کا ا ن کے ساتھ رویہ ہمیشہ غیر ہمدردانہ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں سول کے ساتھ ساتھ مختلف فورسز چترال سکاوٹس، چترال پولیس اور چترال لیویز کی کئی کئی پولو ٹیمیں ہیں جن کے کھلاڑیوں کے پاس جو گھوڑے اور سہولیات ہیں، وہ سول ٹیموں کی کھلاڑیوں کے پاس بالکل نہیں ہیں اور نتیجتاً ان کے درمیان مقابلہ بھی ممکن نہیں ہے اور اسی بنا پر پولوایسوسی ایشن نے ٹورنامنٹ میں سول اور فورسزکی ٹیموں کا الگ الگ پولز بنانے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ اس سلسلے میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کے دفتر میں منعقد ہ اجلاس میں موجود چترال لیویز کے کھلاڑی پولوایسوسی ایشن کے نمائندوں کے ساتھ گالم گلوچ اور دھمکیوں پر اتر آئے اور ان کی ایک بات نہ سنی جس کی بنا پر وہ اپنی طرف سے سول کھلاڑیوں کا الگ پول بنانے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ پولوایسوسی ایشن نہ چترال میں انٹرڈسٹرکٹ ٹورنامنٹ میں اور نہ ہی شندور میں بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرے گی۔ پولوایسوسی ایشن کے صدر نے انتظامیہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایک کروڑ 70لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود چترال کے پولو گراونڈ میں نہ تو پانی کا بندوبست ہوسکا ہے اور نہ ہی یہاں پر دیکھ بال کے لئے کوئی چوکیدار مقرر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کھیل کے دوران زخمی ہونے والے سول کھلاڑیوں کی ویلفئیر کے لئے بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جشن شندور میں سول اور فورسز کی ٹیموں کا مشترکہ ٹیمیں حسب سابق ٹیلنٹ کے مطابق سیلیکٹ کئے جائیں گے جس میں ہمیشہ سے میرٹ کا بول بالا رہاہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں سے ہمیشہ جیت چترال کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کمشنر ملاکنڈ اور چیف سیکرٹری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پولوایسوسی ایشن کے مطالبات کو پورا کیا جائے جوکہ مہنگائی وگرانی کے اس دور میں اس مہنگا ترین کھیل کو چترال کی روایتی کے طور پر زندہ رکھے ہوئے ہیں جس سے ٹورزم کو بھی تقویت ملتی ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


