مفت تعلیم کا شوشہ ملک خدادات کے معرض وجود میں آنے کے دن سے جاری ہے لیکن یہ اعلی تعلیم غریبوں کے لیے خواب ہی رہی ہے۔۔حکومت نے بے شک سرکاری ادارے کھولے لیکن کچھ سالوں بعد ان سے بڑے بڑوں کی توجہ ہٹ گئی اس لیے کہ جو اعلی تعلیم کے لیے ملک سے باہر نہیں جا سکتے تھے ان کے لیے جابجا غیر سرکاری ادارے کھلنے لگے مہنگی فیسیں بھری جانے لگیں فیشن کے طور پر ٹیوشن ہونے لگے حالانکہ شروع دنوں میں ثیوشن پڑھنا معیوب تصور ہوتا تھا کیونکہ والدین اپنے نالائق بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے لیکن اشرافیہ نے اس کو بھی فیشن بنالیا۔۔گورنمنٹ سکولوں میں تعلیمی معیار سرکار کی عدم توجہی کا شکار ہوگیا
۔۔پھر ایک نعرہ ”خواندگی“ کا آیا کہ اشرافیہ کو چھوڑ کر عوام کو بس خواندہ ہونا ہے”خواندگی“ کی تعریف یہ کی گئی کہ بندہ سادا سا اخبار پڑھ سکے اپنا نام لکھ سکے سادا سا خط لکھ سکے۔۔۔یہ دھیرے دھیرے تعلیم کا معیار ٹھہرا۔۔پھر گورنمنٹ سکولوں میں امتحان میں نقل آگئی رہی سہی کسر اس نے نکال دی۔خیر بڑے پرائیویٹ اداروں میں امتحانی ہال کا جو حشر ہے وہ الگ تصور ہے۔۔پھر سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کا تصور بھی کمزور ہوگیا۔۔جان کھپانے والا استاذ اس بے ربط ہجوم میں اپنا وجود تک گنوا دیتا ہے۔۔پھر داخلی امتحانات میں فیل نہ کرنے سزا جزا کا تصورختم کرنے کاحکمنامہ آیا تو اکثر اساتذہ گھوڑا بھیج کر پاٶں پھیلا کر سوگئے۔غریب بچے جن کو پڑھنے کا شوق ہوتا تھا وہ پرائیویٹ امتحان دیا کرتے تھے۔ایم اے، ایم ایڈ تک پرائیویٹ کرتے ڈگریاں لیتے بڑے بڑے عہدوں تک پہنچتے لیکن یہ دروازہ بھی خیر سیبند کیا گیا۔۔حکومت نے بی ایس پروگرام تعلیمی اداروں میں متعارف کرایا۔چھ ٹھ سمسٹر بھاری فیسیں۔۔۔مختلف مضامین۔۔اب خیر سے سارے اداروں میں بی اے ایم اے کا دوسالہ پروگرام ختم کر دیا گیا پرائیویٹ ایم اے ختم کیا گیا۔۔اور بی ایس پروگرام میں سمسٹر کا نظام راٸج کرکے سب کچھ اساتذہ کی صوابدید میں دی گئی تو کتنے بچے اساتذہ کے مزاج کے بینٹ چھڑے۔خیر المیہ پرائیویٹ تعلیم پر پابندی ہے اب وہ بچہ جو بی ایس پروگرام کو برداشت نہیں کر سکتا خیر سے ایف اے ایف ایس سی کرنے کیبعد ان پڑھ رہے گا۔اشرافیہ کے علاوہ ساری قوم ان پڑھ رہے گی۔۔اب سوال یہ ہے کہ وہ آدمی جو اپنے بچے کو تعلیم یافتہ بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا اس کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے وہ اپنے بچے کو صرف بارہ جماعت پڑھانے کے لیے سکول کالج کیوں بھیجے۔۔اس کو کوٸی ہنر بچپن میں ہی کیوں نہ سکیھاۓ۔کیونکہ ملک خداداد میں تعلیم کا بڑا مقصد نوکری حاصل کرنا ہے۔اب یہ داخلہ مہم یہ بچوں کو کھینچ کر سکول لانا یہ تعلیم یافتہ ہونے کا نعرہ الاپنا۔۔۔یہ کونسے منطق ہیں۔۔۔یا کوٸی استاذ، کوٸی پرنسپل محکمہ تعلیم کا کوٸی ذمہ دار آفیسر کوٸی سیکرٹری ڈاٸریکٹر وزیر کسی غریب باپ کے اس سوال کا 0
جواب دے سکتا ہے کہ جناب میں ایف اے ایف اے سی کے بعد اپنے بچے کو کہاں لے جاٶں بی ایس کرانے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔یہ عجیب منطق ہے اس پر کوٸی سوچتا نہیں یا ہم ان پڑھ رہنا ہی پسند کریں گے یا ہماری ان ذہین بچوں کا کوٸی مستقبل نہ ہوگا۔ہمیں ان پڑھ رکھنے میں اگر کسی کو فاٸدہ ہے تو پھر ٹھیک ہے ویسے بھی ایک سپاہی وردی ہونے کیلیے ایم اے تعلیم ضروری تھی اب بی ایس ضروری ہوگا ان کی بلا سے اشرافیہ کے بچے بے روزگار نہیں ہونگے۔۔۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



