اقتدار کی لڑائی تحریر:اقبال حیات آف برغذی

Print Friendly, PDF & Email

الیکشن کے نام پر اقتدار کے حصول کے لئے انگریزوں کی طرف سے وضع کردہ دنگل آج کل ملک بھر میں عروج پر ہے۔ اور ایک ایسا ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔ کہ جس میں باہمی یگانت اور بھائی چارے کا اسلامی تصور نفرت اور عداوت کے رنگ ڈھل جاتا ہے۔ایک دوسرے کی تذلیل کے لئے مختلف حربے بروئے کار لائے جاتے ہیں۔دل آزاری،بہتان اور تہمت جیسے قبیح افعال کا بازار گرم ہے جھوٹے وعدے وعید کئے جاتے ہیں آسمان سے تارے توڑکر لانے کی دعویداری ہورہی ہے۔ ایک دوسرے کی پردہ داری کے اسلامی تصور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ اپنے آپ کو ایک دوسرے بالا تصور کئے جاتے ہیں جس کا علم قرآن کی رو سے اللہ رب العزت کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔رشوت جیسے قبیح فعل کا برملا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ بڑی بڑی تصاویر سے درودیوار لپٹ لئیجاتے ہیں۔ الغرض شیطان کی انگلی پر یہ ناچ معاشرتی زندگی کے تمام اوصاف پر حاوی نظر آتا ہے۔زندگی کے خدوخال مکمل طورپر باہمی رقابت،منافرت یہاں تک کہ دشمنی کی خباثت سے آلودہ ہیں۔
دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے برپا اس معرکہ آرائی کے تناظر میں اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو نمائندگی کا جامہ۔
زیب تن کرنے کے بعد ان کی زندگی کے رنگ ڈھنگ میں نمایان تبدیلی ان کے ذاتی مفادات کے حصول کے عکاس ہوتی ہے۔ سائیکل لینے کی استطاعت سے محرومی کے عالم سے چمچماتی گاڑی کی نعمت فاخرہ کے حامل ہونا ان کے کردار کو نمایان کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں اور مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہونے والے اس منصب سے فراغت کے بعد عوام کو غربت اور مفلوک الحالی کے سپرد کرکے خود عیش وعشرت کی زندگی گزارنے کے لئے اپنے اہل خانہ سمیت یورپ کو سدھارجاتے ہیں۔ اور بیچارے عوام یوںمسیحا کی تلاش میں سرگردانی سے گلو خلاصی جامل نہیں کرتے۔ا ن بدبخت حکمرانوں کو اگر تاریخ اسلام کے آئینے کے سامنے لایا جائے گا تو ان کے چہرے مسخ ہوجائینگے۔ دنیا ایسی حکمرانی کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔کہ ایک خلیفہ وقت کے سامنے حلوے کا پلیٹ رکھا جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر کو اس گرانقدر نعمت سے مستفید ہونے کے امکان کے بارے میں دریافت کرنے پر بتایا جاتا ہے کہ بیت المال سے ملنے والے اپنے حصے کے آٹے میں سے پس انداز کرکے یہ حلوہ بنایا گیا ہے خلیفہ وقت فوراًکھڑے ہوتے ہیں اور بیت المال والوں کو پس انداز کئے جانے والے آٹے کے برابر اپنے حصے کو کم کرنے کا حکم دیتے ہیں۔خداکریکہ ہماری اس گلشن ہستی کو بھی ایسی حکمرانی نصیب ہو۔ مگر یہ ایک ایسی اروزو ہیکہ جس کی برآوری کی مادہ پرستی کے اس دور میں امید رکھنا حماقت کے مترادف ہے۔
=======================