ووٹ منگے آج کل تو گلی گلی ملتے ہیں۔ہر کہیں یہی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ملک میں الیکشن ہو رہے ہیں۔۔”انتخابات“ ”چناٶ“ ”اعتماد“اعتبار اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔کسی اہل درد نے تڑپ کر کہا تھا۔۔۔الیکشن،ممبری، کونسل صدارت۔۔۔۔تعرض یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔سلیکشن ٹھیک نہیں ہو رہی۔۔۔تعرض یوں ہے کہ کوٸ موزون بندہ ملتا ہی نہیں۔۔۔تعرض یوں ہے۔۔کہ کسی بھی پارٹی کا ماضی شفاف نہیں۔۔اندیشہ یوں ہے کہ افراد اپنے من میں ڈوب کر خواب پریشان بن جاٸیں پھر کوٸ کہے ہمارا بھی کوٸ قومی اور صوباٸ اسمبلی کا ممبر یوا کرتا تھا۔سوشل میڈیا نے جھوٹ اور پروپگنڈے کو اسان اور ارزان بنا دیا ہے۔۔یہ جھوٹ کی سرکس ہے۔۔یہ افواہوں کا واٸس باکس ہے۔کوٸ امیدوار آتا ہے۔۔اس کے پاس سچ بولنے کے لیۓ ویسے بھی الفاظ نہیں۔۔جھوٹ وہ ترتیب سے بول نہیں سکتا۔۔۔جو بولتا ہے۔۔۔ تولتا نہیں اس لیے اس کو احساس نہیں ہوتا کہ کیا بولا ہے۔۔کسی منچلے نے کہا تھا۔۔۔جھوٹ کے پاٶں نہیں ہوتے۔۔۔کاش یہ پیارا پاکستان کسی اور کے پاس ہوتا۔ وہ سچ بولتا۔۔۔اس کا کردار بے مثال ہوتا۔۔اس کو اس سر زمین سے پیار ہوتا۔۔وہ اس کی حفاظت کو اور ترقی کو اپنی منزل سمجھتا۔وہ کبھی بدعنوانی کا نہ سوچتا۔وہ انصاف اور عدل کا چیمپین ہوتا۔اس کو دوسروں سے محبت ہوتی۔وہ کسی کے دکھ درد میں شامل ہوتا۔وہ اس کی تعمیر کا سوچتا جب پل بناتا تو سینکڑوں سال کی گیرنٹی ہوتی۔۔سڑکیں شیشے کی طرح شفاف ہوتیں۔۔۔دفتروں میں خدمت سے سرشار اہلکار ہوتے۔تعلیمی اداروں میں خواب دیکھے جاتے۔یہ پھول پھول بچے ان خواب دیکھنے والوں کی تعبیریں ہوتے۔ہر کوٸ خدمت کو گلے لگاتا حکمرانی سے دور بھاگتا۔تب یہ گلی میں آتا اس کی آنکھوں میں خدمت اور صداقت نور بن کے چمک رہی ہوتی۔ وہ اٹکتے اٹکتے کہتا۔۔۔”مجھے قوم نے خدمت کے لیے میدان میں اتارا ہے۔میں اس آزماٸش کے لیے اپنے آپ کو موزون تو نہیں سمجھتا اگر مجھے خواہ مخواہ اس آزماٸش میں ڈالنا ہے تو ہزار بار سوچو“۔۔۔۔ تب میں اس کی آنکھوں میں ڈوب جاتا۔۔اس سمے میری پاک سرزمین خوابوں کی سرزمین بن کے آنکھوں میں اتر جاتی۔ہر طرف پھول کھلے ہوۓ ہوتے۔ترقی ہوتی۔خوشحالی ہوتی۔۔اطمنان ہوتا۔۔ عدل ہو تا۔۔۔کوٸ غریب بھیک نہ مانگتا۔۔دولت کی تجوریاں ہوتیں۔میرا بچہ آزاد پیدا ہوتا۔۔کسی کی پرستش نہ ہوتی۔۔۔”یس اور ہاں“ کی اہنگیں نہ ہوتیں۔۔حکمران عام سا بندہ ہوتا۔اس کا اٹھنا بیٹھنا عام لوگوں کے ساتھ ہوتا۔۔اس کی زندگی وہی ہوتی جو پہلے تھی اس کا کوٸ پروٹوکول نہ ہوتا۔۔اس کیسارے وعدے سچے ہوتے۔ان پر اعتبار کیا جاتا۔اس کی آنکھوں میں وہی نور ہوتا۔۔۔خدمت کا نور۔۔۔ایسے بندے کے لیۓ ”ووٹ“ کی کیا قیمت ہوگی۔ایسا ووٹ، ایسی حمایت،ایسا اعتماد یہ تو کوٸ خواب نگر میں ہوگا۔۔بس وہی ایک امانت جو قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔اس حمایت(ووٹ) کی بہت لمبی تاریخ ہے۔۔۔عرب کے اکیلے جوان (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔۔اگر قریش میرے داہنے ہاتھ میں سورج اورباہنے میں چاند رکھ دیں تب بھی میں حق کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اس حمایت کی عجیب تاریخ ہے۔۔شہید کربلا نے سر کٹایا بس ایک ووٹ کی بات تھی۔یہ مقدس امانت ہے کاش کوٸ اس کی قیمت سے آگاہ ہوتا۔۔کاش کوٸ اس کو مانگنے کے قابل ہوتا۔۔۔۔وہ میری گلی میں آتا۔۔۔خاموش کھڑا رہتا۔۔۔سر جھکا ہوا ہوتا۔۔۔میرا دل کہتا یہ ووٹ مانگ رہا ہے۔۔۔میرا ضمیر کہتا یہ اس کے قابل ہے۔۔۔اس کے دل سے آواز آتی۔۔۔۔”مجھے ایک ووٹ چاہیۓ صاحب“۔۔۔میں کہتا۔۔۔۔آپ کے لیۓ میری جان حاضر ہے جناب۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


