داد بیداد۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔نا م میں کیا رکھا ہے
دو نو جوا ں طا لب علم پہلی بار پشاور آئے ہیں میں ان کی ہمرا ہی میں آسا ما ئی دروازے کے با ہر کھڑا ہوں با لا حصار کا قلعہ ہمارے پیچھے اور لیڈی ریڈ نگ ہسپتال دائیں طرف ہے طا لب علم قصہ خوا نی بازار دیکھنا چا ہتے ہیں ان کو راستوں کا کوئی پتہ نہیں ہم نے ڈھکی نعلبندی کے راستے قصہ خوا نی میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھوڑی سی چڑ ھا ئی چڑ ھنے کے بعد شہر کی بڑی فصیل میں چھوٹا سا غیر معروف راستہ ہمیں ملا اس راستے پر چلتے ہوئے ہم ڈھکی نعلبندی میں داخل ہوئے میں نے کہا یہ گلی قصہ خوا نی کی طرف جا تی ہے طالب علموں نے پو چھا اس گلی کا کیا نا م ہے، میں نے کہا ڈھکی نعلبندی، دونوں نے میری طرف دیکھا اور نا م کا مطلب پو چھا میں نے کہا گھوڑوں کو نعل لگا نے کی جگہ، قدیم زما نے میں لو گ گھوڑوں پر سفر کر تے تھے اس مقا م نعلبند وں کے اڈے تھے جہاں گھوڑوں کے نعل لگا ئے جا تے ہیں اور وہ سفر کے لئے تازہ دم ہو تے تھے اس جگہے کا نا م ڈھکی نعلبندی پڑ گیا اب نہ گھوڑے رہے نہ نعل کی ضرورت رہی، مو ٹروں، مو ٹر سائیکلوں اور بسوں کے دور میں یہ نا م پشاور کی تار یخ سے ہمیں آگا ہ کر تا ہے باتوں باتوں میں قصہ خوا نی بازار آ گیا، طا لب علموں نے پو چھا اس کا نا م قصہ خوا نی کیوں رکھا گیا؟ سوال مشکل تھا مگر جواب آسا ن ہے میں نے کہا قدیم زما نے میں دریا ئے باڑہ اس مقا م سے گزر تا تھا دریا کے کنا رے مسا فروں کے لئے سرائے ہوا کر تے تھے جہاں مسا فر ٹھہر تے تھے اُس زما نے میں سمارٹ فون، انٹر نیٹ، فلم، ٹیلی وژن وغیرہ نہیں ہو تے تھے لو گ گپ شپ میں وقت گزار تے تھے گپ شپ کا ایک مقبول طریقہ کہا نیاں سنا نا تھا چنا نچہ کہا نیاں سنا نے والے مسا فروں کو کہا نیاں سنا تے تھے اس لئے اس جگہ کا نا م قصہ خوا نی کی جگہ پڑ گیا بعد میں مختصر ہو کر قصہ خوا نی رہ گیا اب یہاں در یا کی جگہ بازار ہے،یہاں سے مغرب کی طرف رخ کریں تو خیبر بازار اور شعبہ تک جا ئینگے مشرق کی طرف رخ کریں تو بازار مسگراں آئیگا اس بازار کو مسگراں کیوں کہتے ہیں؟ یہاں پیتل اور دیگر دھا توں سے خوبصورت بر تن بنا ئے جا تے ہیں ان بر تنوں کی پوری دنیا میں شہرت ہے پیتل کو اردو میں مس بھی کہتے ہیں اس لئے اس کا نا م مسگراں پڑ گیا یہاں جس مسجد کے مینار نظر آرہے ہیں یہ مسجد قاسم علی خا ن ہے، آگے ہم ایک دورا ہے پر کھڑے تھے دائیں طرف پیپل منڈی تھی، بائیں طرف ڈھکی دالگراں تھی، طالب علموں نے ڈھکی دالگراں میں داخل ہو نے کا تقا ضا کیا، میں نے کہا پیپل منڈی میں پیپل کا قدیم درخت تھا اس کا نا م پیپل منڈی پڑ گیا، ڈھکی دالگران میں مٹر، چنا، مونگ اور دیگر انا ج سے دالیں بنا ئی جا تی تھیں اس وجہ سے اس کا نا م ڈھکی دالگراں پڑ گیا طا لب علموں کا اگلا سوال تھا کیا ایسے نا م اور بھی ہیں؟ میں نے کہا محلہ سار باناں ہے جو اونٹ پا لنے والوں کا محلہ تھا، محلہ فیل با ناں ہے جو ہا تھی پا لنے والوں کا محلہ ہوا کر تا تھا اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اور ایسے نا م کتنے ہیں میں نے کہا سیر کرو، کھا ؤ پیو نا م میں کیا رکھا ہے؟ وہ بضد تھے کہ ایک ہی دن شہر کے سارے محلے چھاں ماریں، میں نے کہا دہلی اور لا ہور کے بعد پشاور سب سے مشہور شہر ہے ایک دن میں اس کی سیر کا پورا لطف اٹھا نا ممکن نہیں۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



