افواج پاکستان کو سیاست میں ملوث کرنا افسوس ناک امر ہے، افواج پر بے جا تنقید غیر ملکی ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش ہے/رائے عامہ

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) رائے عامہ کے جائزوں نے اس امر پر سخت افسوس اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے کہ آج کل مختلف حوالوں سے باتیں کرتے ہوئے پاک فوج کے کردار پر بلا وجہ اور غیر ضروری تنقید کی جارہی ہے اور ملک کے بعض سیاسی قیادت مسلح افواج اور قیادت کے حوالے سے ایسا طرز عمل اور طرز گفتگو اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے افواج پاکستان کیخلاف ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے راہ ہموار ہو نگی اور نیز اس طرز عمل سے قومی ادارہ کمزور ہوگا۔ حال ہی میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ایبٹ آباد جلسہ میں پاک فوج کے کردارپر جس انداز سے بات کی ہے افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے صرف اور صرف سیاسی فائدے کیلئے ایک نا پسندیدہ فعل قراردیا جارہا ہے۔رائے عامہ کے مطابق عوام کی اکثریت کی خواہش ہے کہ ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں پوری کرے اور ایسے میں اگر افواج پاکستان آئین کے تحت اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں تو انہیں بے جا طور پر سیاسی معاملات میں نہیں گھسیٹنا چاہئے کیونکہ افواج کو سیاست میں گھسیٹنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پاکستان کی سلامتی اور دفاع سب سے مقدم ہے اور خطے کے حالات کے پیش نظر مسلح افواج او ر انکی قیادت ملک کے دفاع کے لئے دن رات کام کر رہی ہے کیونکہ اسوقت ملک کو بیرونی دشمنوں کے علاوہ ایسے اندرونی عناصر کا بھی سامنا ہے جو کہ ملک کے امن و امان کے لئے چیلنج بن چکے ہیں اور ایسے حالات میں مسلح افواج اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کر نے کے لئے چوکس ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بڑی قربانیاں دیکر ملک میں امن و امان بحال کیا گیا ہے اور سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بحیثیت قوم ہم سب نے ملکر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملک کی خدمت کرنی چاہییے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کیا جانا چاہیئے جو سیاسی مقاصد کے لئے افواج پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔