جنگلی حیات کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہے اور اس کے تحفظ کیلیے کام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ الطاف علی شاہ ڈی ایف او محکمہ وائلڈلائف چترال

Print Friendly, PDF & Email

چترال(نذیرحسین شاہ نذیر)ڈی ایف او محکمہ وائلڈلائف چترال الطاف علی شاہ نے کوغذی ویلی کنزرویشن (وی سی سی)کے زیراہتمام آگاہی مہم کے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہیکہ جنگلی حیات کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہے اور اس کے تحفظ کیلیے کام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہاکہ جنگلی حیات ہماری بھرپور توجہ کی متقاضی ہے اور ماحول کی خوبصورتی کی ضامن ہے اس لئے ہم سب کو اپنی انسانی و دینی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے لوگوں میں جنگلی حیات کی معدوم ہوتی نسلوں کی حفاظت اور ان کی مناسب دیکھ بھال اور غیر قانونی شکار سے باز رہنے کا شعور اجاگر کرنا ہو گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ جنگلی حیات کی وہ اقسام جن کی نسل ختم ہوچکی ہے یاختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، ایسے جانوروں اور پرندوں کی بریڈنگ سینٹرز (نسل افزائی مراکز) میں افزائش کے بعد جنگلوں میں چھوڑا جائے گا۔ تاکہ وہ کھلے ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔صوبہ خیبرپختونخوا میں مختلف اقسام کے کئی جنگلی حیات چترا ل میں موجودہیں جوصوبے کے دوسرے اضلاع میں نہیں ہیں۔الطاف علی شاہ نے کہاکہ جنگلی جانور نہ صرف ماحول کو متوازن رکھتے ہیں بلکہ ان سے ماحول اور بھی زیادہ خوبصورت ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے جنگلی جانوروں کے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے تاکہ ان کی نسل کو ختم ہونے سے بچایا جاسکیچترال کے مختلف ٹرافی ہنٹنگ کے باعث مارخوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ پہلے کی طرح دھڑا دھڑ غیر قانونی شکار کے راستے بند ہوگئے ہیں۔
اس موقع پرصدروی سی سی کوغذی شریف حسین،جنرل سیکرٹری رشیداحمد،صدرآل وی سی سی ایسوسی ایشن چترال فیض الرحمان،معیزالدین بہرام ایڈوکیٹ,ولی زمان مسروراوردوسروں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون ہم سب کی ذمہ داری ہے۔یہ ادارے ہماری خدمت کے لئے بنایاگیاہے۔جنگلی حیات کی تحفظ کے حوالے سے اس وقت وی سی سی کوغذی کے اکاونٹ میں 46لاکھ روپے حکومت کی طر ف سے ملے ہیں جوجنگلی حیات کی تحفظ اورعلاقے کی دیگرمسائل حل کرنے کی مدمیں خرچ کیاجائیگا۔کوغذی گول میں آئی بیکس،کشمیرمارخورکثیرتعدادمیں موجود ہیں۔ایک ٹرافی ہنٹنگ میں ایک کروڑ 28لاکھ روپے میں کیاجاسکتاہے اورجس کی 80فیصدرقم کمیونٹی کوملتے ہیں۔اگریہاں کے عوام آج سے غیر قانونی شکاریوں کے خلاف ایک موثراور مر بوط مہم کا آغاز کیاجائے وہ وقت دورنہیں کہ کوغذی گول میں بھی کروڑوں روپے کاٹرافی ہنٹنگ کیاجائے جس سے علاقے تمام مسائل پرقابوپایاجائے گا اور جنگلی حیات کی شکل میں یہ قیمتی سرمایہ ہماری آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ رہے گا۔ ہمارے بزرگوں نے علاقے کی پسماندگی کومددنظررکھتے ہوئے اس وی سی سی کابنیادرکھاہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ چترال بھرمیں جنگلی جانوروں اور پرندوں کی غیرقانی شکار پر پابندی لگا کرسختی سے عملدرآمدکروایا جائے۔اور جنگلی حیات کی تحفظ کیلئے لوکل اسٹاف بھرتی کیاجائے تاکہ وہ دن رات غیرقانونی شکارکرنے والوں پرکڑی نظررکھ سکیں۔