داد بیداد ۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔23مارچ

Print Friendly, PDF & Email

داد بیداد ۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی۔۔۔23مارچ
23مارچ
23مارچ ہر سال آتا ہے گذر جا تا ہے ہم اگلے سال کے 23مارچ کا انتظار کرتے ہیں قو م کے لئے ملک کے لئے، آزادی کی یا دوں کے لئے، آزادی کے علم برداروں کے لئے ہمارے پا س دو دن ہیں 23مارچ اور 14اگست سال کے با قی 363دن ہم ان دو دنوں کی یا د میں گذار تے ہیں 23مارچ کو ایک ٹیلی وژن چینل نے لو گوں سے انٹر ویوں لینے کا پرو گرام تر تیب دیا کیمرہ اور ما ئیکرو فون لیکر دفتروں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں گھوم پھر کر لو گوں کے تا ثرات ریکارڈ کئے گئے ایک قانون ساز اسمبلی کی لا بی میں قانون سازوں کے انٹر ویولئے گئے جب یہ انٹر ویو نشر ہوئے تو ہم نے افسوس کیا کا ش ہمارا دوست ما ئیکرو فون اور کیمرہ لیکر با ہر نہ نکلتا اور ہماری قوم کو یوں بے آبرو نہ کر تا بات یوں ہو ئی کہ 30لو گوں کے تا ثرات نشر ہوئے ان میں 28پا کستا نیوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہ کونسا دن ہے صرف 2ہم وطنوں نے کہا کہ اس روز لا ہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ ہوا تھا جلسے میں قیا م پا کستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی اور یہ 23مارچ 1940کا یاد گار دن تھا ہم اس دن کی یاد منا تے ہیں تحریک پا کستان کے 4بڑے سنگ میل ہیں 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی 1931ء میں آلہ اباد کے اندر آل انڈیا مسلم لیگ کا سا لا نہ اجلا س ہوا جس میں علا مہ اقبال نے ہندوستان کے مسلم اکثریتی صو بوں پر مشتمل الگ اسلا می مملکت کا تصور پیش کیا اس تصور کو خطبہ آلہ اباد کے نا م سے یا د کیا جا تا ہے اور اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ پا کستان کا خواب علا مہ اقبال نے دیکھا تھا اس تحریک کا تیسرا اہم سنگ میل لا ہور میں سالا نہ جلسہ تھا یہ جلسہ 23مارچ 1940ء کو منعقد ہوا جلسے کے لئے خطبہ آلہ اباد کی روشنی میں ایک قرار داد کا مسودہ تیار کیا گیا مشرقی بنگال سے آنے والے رہنما اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کیا لو گوں نے ہاتھ اُٹھا یا قائد اعظم محمد علی جنا ح نے قرارداد پر دستخط کر کے اخبارات کو جا ری کیا، 24مارچ کے اخبارات میں اس کو قرارداد لا ہور کا نا م دیا گیا آج کل ایسی قرارداد کے لئے اعلامیہ کا لفظ مستعمل ہے جو قرار داد سے زیا دہ جا مع اور پُر کشش ہے جب قرار داد لاہور اخبارات میں شا ئع ہوا تو اس کے الفاظ اور جملے تھوڑے فرق کے ساتھ یوں تھے ”آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلا س حکومت پر واضح کر تا ہے کہ ہندوستان میں مسلما نوں کے مستقبل کو محفوظ بنا نے اور مسلما ن آبادی کو مطمئن کرنے کا حل اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ ہندوستان کے جن علا قوں میں مسلما ن اکثریت میں رہتے ہیں ان علا قوں کو ملا کر مسلما نوں کے لئے الگ آزاد اور خود مختار ریا ست کی بنیا د رکھی جا ئے اس سے کم تر کوئی بھی حل مسلما نوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا“ اصل قرار داد انگریزی میں تھی جلسے میں انگریزی کے ساتھ اس کا اردو تر جمہ بھی پڑھ کر سنا یا گیا جلسے کے دو دن بعد ہندووں کے اخبارات نے قرارداد لاہور کو ”قرارداد پا کستان“ کا طعنہ دیا اور ساتھ یہ بھی لکھا کہ دیوانوں کی باتیں ہیں ایسا کبھی نہیں ہو گا آغا شورش کا شمیری نے اپنی سوا نخ عمری ”بوئے گل نا لہ دل دو دچراغ محفل“ میں لکھا ہے کہ ہندو اخبار نویسوں کا یہ طعنہ سامنے آنے کے بعد مسلما نوں کا وہ طبقہ بھی آل انڈیا مسلم لیگ کا حا می بن گیا جو اب تک مسلم لیگی کیمپ میں نہیں تھا اگلے6سالوں تک قرار داد پا کستان کو اخبارات میں گرما گرم بحث کا مو ضوع بنا یا گیا جن مسلما نوں کو قائد اعظم محمد علی جناح، مو لاظفر علی خان اور دوسرے رہنما قائل نہیں کر سکتے تھے وہ ہندووں کے طعنوں سے تنگ آکر تحریک پا کستان کے حا می بن گئے چنا نچہ 1946ء کے انتخا بات میں مسلما نوں نے مجلس احرار، خا کسار تحریک، جمعیتہ العلمائے ہند اور کا نگریس کے مقا بلے میں آل انڈیا مسلم لیگ کو زیا دہ ووٹ دیے مو لا نا عطا اللہ شاہ بخا ری کا مشہور قول ہے یہ مسلما ن کیسے لو گ ہیں انہوں نے چھ چھ گھنٹے بیٹھ کر جھوم جھوم کر میری تقریروں پر واہ واہ اور سبحا ن اللہ کے ڈونگرے بر سائے جب ووٹ کا دن آیا تو جا کر جناح کی پارٹی کو کامیاب کرایا ہمیں کوئی ووٹ نہ ملا یوں تحریک پا کستان کے چوتھے سنگ میل 14اگست 1947ء کی راہ ہموار ہوئی 23مارچ نہ ہو تا تو شاید قیا م پا کستان کی منز ل بھی اتنی جلد نہ آتی اس لئے 23مارچ کو تحریک پا کستان کا اہم سنگ میل قرار دیا جا تا ہے۔