بونی (نما یندہ چترال میل)عرصہ دراز سے تورکھو روڈ استارو کے مقام پر پُل ٹوٹنے کے باعث عوام تورکھو اور عوامِ یو۔سی تریچ کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ہزاروں جتن کے باوجود مسلہ پر نہ تو سیاسی نمائیندے توجہ دی نہ تنظامیہ اور نہ متعلقہ ادارہ سی۔اینڈ۔ڈبلیو کوئی خاطر خواہ کارکردگی انجام دی۔ علاقے کے عوام اپنے مسلے کو دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہر فورم تک پہنچائی۔پرنٹ میڈیا سوشل میڈیااور الیکٹرامک میڈیا بھر پور طریقے سے مسلے کو اجاگر کیا لیکن نا عاقبت اندیش سیاسی نمائیندے اور دوسروں نے اس مسلے کو سنجیدہ لینے کے بجائے خاموشی پر اکتفا کیا انجام کار تورکھو اور یو۔سی تریچ کے کم و بیش 80ہزار آبادی محصور ہونے کے قریب پہنچ گئے موسم سرما کی برف باری شروع ہوئی۔علاقے میں دوسرے مسائل کے علاوہ اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا۔ تو علاقے کے عوام مجبوراً اپنے حق کے حصول کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے آج ایک میٹینگ تحصیل ہیڈ کوارٹر شاگرام میں منعقد ہوئی۔جس میں تورکھو کے ہر گاوں سے نمائیند ہ گی اور تریچ یو۔سی کی بھی بھر پور نمائیدہ گی شامل رہی۔ صدارت علاقے کے معزز شخصیت سابق یو۔سی ناظم عبد القیوم بیک نے کی۔ مسلے کی حساسیت کااس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ میٹینگ لوگوں کی کثیر تعداد میں شرکت کی وجہ سے جلسے کی شکل اختیار کی۔ اور ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ اس میں شریک ہوئے۔ نظامت کے فرائض احمد اللہ نے انجام دی۔تلاوت کلام پاک سے میٹینگ کا آغاز ہوا۔قاری امتیاز نے تلاوتِ کلام پاک پیش کی۔ میٹینگ میں ذیل افراد اپنے اپنے علاقے کی نمائیدہ گی کرتے ہوئے اظہار خیال کیے۔سابق کمشنر سلطان وزیر اجنو،قاضی جمیل کھوت، سابق ضلعی ممبر سیف اللہ شاگرام،سابق تحصیل ممبر علاو الدین عرفیؔ تریچ،مولانا امتیاز شاگرام، شاہد عالم لال سور وہت،سفیر اللہ واشیچ،اشرف نظار شوتخار،مغل واشیج،احمد زرین رائین،سابق ممبر امان اللہ اجنو،حاجی غفران مڑپ،حاجی حمید شاگرام،ظفر لال ریچ،عصمت اللہ سابق چیر مین واشیچ،سابق وی۔سی ناظم میر نظام الدین کھوت،مولانا ریاض شاگرام،امیر اللہ واشیچ اور ڈرائیور برادری کے نمائیندے بھی حالات کے پیش نظر اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین انتظامیہ کی بے حسی،سی۔اینڈ ڈبلیو کی غفلت اور سیاسی نمائیندوں کی خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا۔جو کہ عرصے سے عوامی مشکلات کو نظر انداز کر کے مجرمانہ غفلت کے مرتکیب ہوئے ہیں۔ اس طرح متفقہ طور پر5دستمبر بروز ہفتہ بھر احتجاج کرنے، دھرنے اور لانگ مارچ کرنے کے فیصلے کے ساتھ متفقہ قرارداد پاس کی۔ جس میں متعلقہ تمام اداروں اور سیاسی نمائیندوں کو متنبہ کیا گیا کہ اگر فوری مسلہ حل نہ ہوا توبونی کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔اور اس سے امن و امان کا خطرہ پید ا ہوگا جس کی تمام تر زمہ داری انتظامیہ،سی،اینڈ ڈبلو اور سیاسی نمائیندوں پر عائد ہوگی۔ اپ نے بذاریعہ قرار داد یہ بھی واضح کردی کہ اگر اس روڈ میں خدانخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوئی تو اس کی تمام تر زمہ داری انتظامیہ،سی،اینڈ ڈبلیو اور سیاسی نمائیندوں پر عائد ہوگی۔ اس سلسلے تمام مسجیدوں اور جماعت خانوں کو خطوط بھی لکھے گئے کہ لوگوں کو ہفتہ کے دن جلسہ میں شرکت کرنے کی ترعیب دی جائے تاکہ عوام بوڑھے،بچے،جوان سب اپنے مسلے کے خاطر باہر نکلے اور حکومت کو مجبور کریں کہ ان کا یہ بنیادی مسلہ حل ہو۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


