تین دسمبر کو معذروں کا عالمی دن۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر
پاکستان سمیت دنیابھر میں معذور افراد کو درپیش مشکلات ومسائل کے حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے ہر سال3دسمبر کو معذروں کا عالمی دن منا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھرکے معذور افراد کو درپیش مسائل اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان افراد کی افادیت پر زور ڈالنا ہے دنیا بھر میں اس دن کی مناسبت سے مختلف سرکاری و نیم سرکاری، سماجی تنظیم اور این جی اوز کے زیراہتمام سیمینارز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو قائل کیا جا سکے کہ وہ معذور افراد کے لئے ہر ممکن مثبت کوششیں بروئے کار لائیں۔اگر معذور افراد کے ساتھ تعاون کیا جائے تو وہ بھی عام لوگوں کی طرح فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔ معذور افراد دیگر معاشرے کی نسبت زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ دوسرے افراد کو ان پر ترجیح دیتے ہوئے انہیں نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ دوسرے افراد پر انہیں ترجیح دی جائے۔
معذورافراد معاشرے میں خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔حکومت کی طرف سے معذوروں کے لیے جو ملازمت کا کوٹہ متعین کیا گیا ہے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ معذور لوگ ملازمت حاصل کرکے معاشرے میں کسی سہارے کے بغیر پروقار زندگی گزار سکیں۔معذوروں کی حق تلفی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں،خصوصی افراد کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل برؤئے کار لاکرانہیں کارآمد شہری بنایا جائے اُن کی تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کرحکومت کی ذمہ داری ہے اورعوام میں معذورافرادکے حقوق کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی اشدضرورت ہے۔
یہ افراد جسمانی طور پر کسی معذوری کا سامنا کر رہے ہیں لیکن صلاحیتوں میں یہ بھی کم نہیں۔ ہمارے اس رویے نے جسمانی کمی کا شکار افراد کو بھی یہ سمجھ لینے پر مجبور کردیا کہ وہ کسی قابل نہیں اور وہ خود بھی کسی کی مدد یا سہارے کے منتظر رہتے ہیں۔ معذور افراد کو ایسا موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرسکیں۔
سپیشل پیپلزآرگنائزیشن چترال کے صدرثناء اللہ نے چترال میں معذورافرادکے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے اس کے جمع کردہ اعدادشمارکے مطابق چترال میں چھ ہزارسپیشل افرادحکومتی عدم توجہ کی بناء پرکئی مسائل سے دوچارہیں اوراُن کے جائزحق کیلئے ہمیشہ حکومت وقت کے دروازے کھٹکھٹارہے ہیں۔اُن کاکہناہے کہ معذورافرادجب کسی دفترجاتے ہیں تواس متعلقہ افسرتک رسائی میں ہماری معذوری بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔چترال میں کم بیش چھ ہزارمعذوروں کے لئے صرف ایک پرائمری سکول ہے وہ بھی چترال ٹاون میں محدود ہیں باقی علاقے اس سے محروم ہیں۔معذورافرادبھی اس معاشرے کاحصہ ہے ان کے لئے کمپلکس تعمیر کیاجائے جہاں نہ صرف کھیل کود سکیں بلکہ ایساکوئی ہنربھی سکیں جس سے وہ اپنے اہل خانہ کے لئے رزیق حلال کماسکیں۔
پاکستان میں ایک کروڑ ستاون لاکھ معذورافرادہیں جن میں مردوخواتین شامل ہیں جوکہ مجموعی آبادی کاپندرہ فیصدہیں۔اُن کی کوئی نمائندگی قومی وصوبائی اسمبلی اورضلعی سطح پرنہیں ہے۔حکومت قومی وصوبائی اسمبلیوں اوربلدیاتی نمائندگی میں اُن کے لئے سیٹ مخصوص کیاجائے۔تاکہ وہ معذورافرادکی صحیح معنوں میں خدمت اورنمائندگی کرسکیں۔ضلع چترال کے سطح پردیکھاجائے سپیشل یوتھ میں بے پناہ صلاحیتیں موجودہیں اگراُن کومواقع فراہم کیاجائے وہ بطوراسپیشل یوتھ چترال کانام ملک میں روشن کریں گے۔ملازمتوں میں معذورافرادکی آبادی کے مطابق انہیں کوٹادیاجائے،ایجوکیشن سکالرشپ سے انہیں محروم نہ رکھاجائے۔بازاروں اورپبلک مقامات پراُن کے لئے مخصوص ٹائلٹ اورانتظارگاہ تعمیرکیاجائے۔سپورٹس کے لئے انہیں فنڈفراہم کیاجائے۔
معاشرے کے خصوصی افراد ہرگزبوجھ نہیں ہیں،مگرافسوس انہیں ان کی پوشیدہ خداداد صلاحیتوں کے اظہارکامناسب پلیٹ فارم نہیں ملتا، انہیں معاشرے کامفید شہری بنانا ہمارااخلاقی فرض اورہم پرانسانیت کاقرض ہے۔ ا نہیں آسانیاں تقسیم کرنے سے یقیناہمیں بھی آسانیاں نصیب ہوں گی۔خصوصی افراد کے مسائل سے چشم پوشی نے ان کے اندراحساس محرومی پیداکردیا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں معذوروں کی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو ہمارا سلام۔
تازہ ترین
- ہومڈی۔پی۔او آفس بلچ لوئر چترال میں ہفتہ وار اردرلی روم کا انعقاد
- ہومآیون اینڈویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام (AVDP) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت صدر شریف احمد اے وی ڈی پی آفس میں منعقد ہوا
- ہومپٹرولیم مصنوعات پر 120 روپے فی لیٹر لیوی اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف 7 اگست کو چترال کی تمام چھوٹی بڑی شاہراہیں مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان ۔۔جماعت اسلامی لوئر چترال کے امیروجیہہ الدین کی پریس کانفرنس
- ہومچترال فارما ڈسٹری بیوٹرز کونسل (سی پی ڈی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل ۔۔فخر عالم (سی ای او عالم انٹرپرائزز/ چیف ایگزیکٹو چترال میل ڈاٹ کام) کو صدر منتخب کیا گیا
- ہومجامعہ چترال کے سینیٹ کے دسویں اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، جامعہ کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
- ہومالخدمت ہسپتال چترال کی تین روزہ MSDS تربیتی پروگرام میں شرکت
- ہومسرزمین تریچ ذوندرانگرام کے قابل فخر فرزند ذیشان نورانی کا ایک اور اعزاز
- ہوممنگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی اپیل پر ضلع اپر اور لوئر چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی
- ہومڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پولیس اسٹیشن ارندو کا دورہ
- ہوم*ڈی۔پی۔او لوئر چترال ریشم جہانگیر کا پریس کلب لوئر چترال کا دورہ



