چترال (محکم الدین) کالاش ویلیز روڈ دوباژ چیک پوسٹ پر متعین پولیس اہلکاروں نے مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ چیک پوسٹ کے اہلکار وں کی طرف سے پسند اور ناپسند کی بنیاد پر گاڑیوں کو روکا جاتا ہے۔ مسافروں کو جبرا اُتار دیا جاتا ہے، یاگاڑی واپس کی جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف نقل و حمل کی پابندی کے باوجود باہر سے سیاح چترال میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور کالاش ویلی پہنچ جاتے ہیں۔ اور حالیہ زوشی فیسٹول میں کئی سیاحوں نے شرکت کی۔ جو ملک کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے تھے جبکہ مقامی لوگوں کوکالاش فیسٹول زوشی کو بنیاد بنا کر رشتے داروں اور عزیزوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔ زوشی کالاش قبیلے کا وہ چھوٹا تہوار ہے جو چلم جوشٹ کے دس دن بعد منایا جاتا ہے۔ پچھتر سالہ بزرگ شخص محمد نواز نے میڈیا کو بتا یا۔ کہ وہ اورغوچ گاءوں سے اپنی ضعیف العمر بہن کی خیریت دریافت کرنے اور عید ملنے کیلئے گھر سے روانہ ہوا۔ اور مشکل سے گاڑی میں سوار ہوکر جب دوباژچیک پوسٹ پر پہنچا۔ تو پولیس نے اُنہیں اور ایک دوسرے مسافر کو گاڑی سے اُتار دیا۔ اور کہا کہ کالاش ویلی میں فیسٹول جاری ہے۔ اس لئے ویلی کے بشندوں کے علاوہ کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پولیس کے جوان سے درخواست کی۔ کہ کالاش فیسٹول سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے۔ اور نہ میری عمر فیسٹول دیکھنے کی ہے۔ اس دوران گارٰی کو جانے دیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ نصف راستے میں پھنس کر رہ گئے۔ بالاخر اُنہیں جانے کی اجازت دی گئی۔ اور وہ چھ کلو میٹر پیدل چل کر بہن کے گھر پہنچ گئے۔ جبکہ وہ دمے کا مریض ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ حکومت بزرگ شہریوں کے احترام اور ادب کی بہت بات کرتی ہے۔ لیکن حقیت میں یہ سب کھوکھلے نعرے ہیں۔ یا اس قسم کے اہلکار حکومت کو بدنام کرنے کی دانستہ کوشش کرتے ہیں۔ ایک اور نوجوان جنید نے میڈیا کو بتایا۔ کہ ایک طرف مقامی لوگوں کو کالاش ویلی میں اپنے رشتے داروں کے گھروں تک جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ جبکہ دوسری طرف اتنے پابندیوں کے باوجود خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر شہروں سے سیاح نہ صرف چترال آچکے ہیں بلکہ کالاش ویلی پہنچ گئے ہیں۔ جو کہ سوالیہ نشان ہے۔ چترال کی نسبت نیچے کے مختلف شہر کرونا وائرس کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ ایسے میں چترال کے مقامی لوگوں کی نسبت دوسرے شہروں سے آنے والوں کی ویلی میں موجودگی زیادہ خطرناک ہے۔ ضلعی انتطامیہ کے اس دوغلے معیار پر عوامی حلقوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دوباژ چیک پوسٹ پر مسافروں کی واپسی سے نہ صرف اُن کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ بھاری مالی نقصان اُٹھانا پڑ رہاہے۔ کیونکہ انتظامیہ کی ناہلی کی وجہ سے حکومت کی طرف سے تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ڈرائیور من مانی کرایہ وصول کرتے ہیں۔ جن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ اُلٹا نصف راستے سے مسافروں کو واپسی پر مجبور کرکے ڈرائیوروں کے ذریعے کرایے کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ویلی جانے کے لئے من پسند افراد کو اجازت دینے کے حوالے سے جب پولیس چیک پوسٹ دوباژ کے انچارج ہیڈ کنسٹبل سید الرحمن سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا۔ کہ سرکاری طور پر ایون وغیرہ علاقوں کے لوگوں کو ویلی میں جانے سے منع کیاگیاہے۔ کیونکہ ان دنوں کالاش فیسٹول زوشی جاری ہے۔ تاہم ہم نے اُن لوگوں کو ویلی میں اجازت دے دی ہے۔ جن کے پاس این او سی موجود ہو۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


