چترال (محکم الدین) چترال لوئر کی چار ان مریضوں کے رزلٹ دوبارہ ٹسٹ کرنیپر نیگیٹیو آگئیہیں۔ جو کہ اس سے پہلے ٹسٹ پازیٹیو آنے پر انہیں آئسولیشن میں رکھا تھا۔ اس سے چترال کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔نیگیٹیو رزلٹ والوں میں چترال کے پہلے مشتبہ شخص شہاب الدین چیوڈوک،رحمت اللہ چمرکن،شمش اکبر چمرکن اور شیر نواز کا تعلق برزین گرم چشمہ شامل ہیں۔ اس طرح لوئر چترال کے بارہ پازیٹیو کیسز سیکم ہوکر تعداد آٹھ تک آگئی ہے۔ تاہم اپر چترال میں ایک اور پازیٹیو کیس کا اضافہ ہوا ہے۔ اور تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ نئے پازیٹیو رزلٹ کے حامل شخص معراج الدین کا تعلق تریچ سیہے۔ قبل ازین ڈپٹی کمشنر لوئر چترال نوید احمد نے کہاہے۔ کہ 70 قرنطینہ مراکز سے چودہ دن کی مدت پورا ہونے کے بعد ایک ہزار افراد کو فارغ کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ بارہ کیس پازیٹیو اور 119نیگیٹیو رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم اب بارہ پازیٹیو کیسز میں سے دوبارہ ٹسٹ کے نتیجیمیں رزلٹ نیگیٹیو آنا چترال کیلئینہایت خوش آیند ہے۔ درین اثنا پولیس کی طرف حکومتی ایس او پیس پر سختی سے عملدر امد جاری ہے۔ اور دکانیں دن چاربجے جبرا بند کی جارہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف لاک ڈاون مزید سخت کرنیلئے آل پارٹی اجلاس بلایا گیا ہے
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


