اخبار میں ایک تصویر دیکھی کیپشن میں لکھا ہے چیف وارڈن شہری دفاع شہریوں میں ماسک اور سینٹائزر تقسیم کررہے ہیں،تصویر دیکھ کر دل باغ باغ ہوا،شہری دفاع وطن پاک کی قدیم تنظیم ہے۔اس کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں سول سروس کے افیسر بیٹھے ہیں ضلع اور دیہات کی سطح پر اس کے دفاتر تنخواہ دار عملے اور دیہی رضاکاروں کا بچھا ہوا ہے۔امن کے دنوں میں شہریوں کے اندر شہری سہولیات کا شعور اُجاگر کیا جاتا ہے۔قدرتی آفات یا دشمن کے حملے کی صورت میں شہری آبادی کو نقصانات سے بچانے کے لئے عملی کام کیا جاتا ہے میں اس کو المیہ نہیں سمجھتا بلکہ مسئلہ قرار دیتاہوں کہ ہمارے ہاں بنیادی اداروں اور تنظمیوں کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔انگریزی میں اس کو بیس لائن ڈیٹا(Base Line data)کہاجاتا ہے وزیراعظم کے دفتر میں بھی اس کا ہونا ضروری ہے وزیراعلیٰ کے دفتر میں بھی اس کا ہونا ضروری ہے۔قدرتی آفت یا وبائی صورت حال یا جنگ کی حالت آنے سے پہلے اس کی تیاری ایسے اداروں اور ایسی تنظمیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔اگر امن کے زمانے میں ان اداروں کو فعال رکھا جائے گا تو ضرورت پڑنے پر سب سے پہلے ان کانام لیا جائے گا۔اگر کسی ضلع میں کسی گاؤں میں ویلیج ڈیفنس کانام لیا جائے تو سب لوگ اس کو جانتے ہیں۔1960کی دہائی میں ویلیج ڈیفنس اس قدر فعال تھی کہ شہریوں کو سرحد کے دفاع اور دراندازی کو روکنے کے لئے بندوقوں کے ساتھ کارتوس بھی مہیا کئے جاتے تھے ان کو تربیت بھی دی جاتی تھی یہ لوگ پولیس سٹیشن میں رجسٹرڈ ہوتے تھے اور مقامی تحصیل کا ذمہ دار افیسر یا تحصیلدار ان کے کام کی نگرانی کرتا تھا ہم لوگ جب پرائیمری سکول میں پڑھتے تھے تو ہرسال محکمہ پولیس سے بندوقوں کا ٹیکسیشن دورے پر آتا تھا اور ویلیج ڈیفنس کے بندوقوں کو چیک کرکے،صفائی کرکے فائر کرکے دیکھتا تھا اور مقامی ایس ایچ او کی طرف سے سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے یا دوچار بندوقوں کا تھوڑا سا مسئلہ ہے کتنی بندوقیں واپس کرنی ہیں،کتنی بندوقیں بدلنی ہیں،اس کا پورا سسٹم بناہوا تھا پھرا متداد زمانہ آیا اور لگا بندھا سسٹم کسی کو یاد نہیں رہا۔ورنہ شہری دفاع کا ضلعی افیسر رضاکاروں کو لیکر سکولوں میں آیا کرتا تھا۔طلبہ کو شہری دفاع کی آفادیت سے آگاہ کرتا تھا یہ ایک مسلسل عمل تھا جس کے ذریعے بیداری پیدا کی جاتی تھی اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے اس بیداری سے فائدہ اُٹھایا جاتاتھا۔بنیادی اعداد وشمار کی ضرورت ہمیشہ سے محسوس کی جاتی رہی ہے مثلاً وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نے حلف اٹھایا تو اس کو بنیادی ضرورت کے سرکار ی اداروں اور تنظیموں پر ایک جامع بریفنگ دی جاتی ہے۔ضلع کا نیا ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس افیسر آتا ہے تو اس کے سامنے ان تنظمیوں کے اعداد وشمار رکھے جاتے ہیں۔ان دفتروں کا دورہ کرکے ان کی استعداد کو دیکھتا ہے اگر استعداد میں کوئی کمی ہوتو اُس کو دور کرنے کے طریقوں پر غور کرتا ہے۔یہ جامع اصول ہے موجودہ وباء ایسے وقت پر آیاہے جب سرکاری تنظیموں،سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کویکجاہوکر مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی ہے حالیہ وباء کے دنوں میں الخدمت فاؤنڈیشن نے5000گھرانوں کی مدد کی۔قاری فیض اللہ صاحب نے عالمگیر ٹرسٹ کی طرف سے 2000گھرانوں کو راشن پہنچایا چھوٹی بہت مدد مہتر چترال فاتح الملک علی ناصر اور کرکٹر شاہد افریدی کی طر ف سے ہوئی اب حکومت کا احساس پروگرام آیا ہے اس پروگرام کے تحت نقدرقوم تقسیم کی جارہی ہیں۔ان تمام کاموں میں شہری دفاع کا محکمہ حکومت کی نمائندگی کرکے لوگوں تک پہنچنے میں رفاہی اداروں کی مدد کرسکتا تھا اگر تھوڑی سی محنت کرکے دستیاب معلومات کو یکجا کیا جاتا توکم از کم ضرورت مند خاندانوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوسکتا تھا کہ کس گاؤں کے کس کنبے کو کس تنظیم کی طرف سے امداد ملی اور کونسا گاؤں ہرطرح کی امداد سے اب تک محروم ہے یاکونسے کنبے اب تک امداد کے انتظار میں ہیں شہری دفاع کے رضاکارگاؤں کی سطح پر موجود ہیں اُن کو بلانے اور ان سے کام لینے کی ضرورت ہے اس طرح انجمن ہلا احمر کاکردار وبائی صورت حال میں لوگوں کی مدد کے حوالے سے بیحد اہم ہوسکتا تھا لیکن معلومات نہ ہونے کی وجہ سے انجمن ہلال احمر کے کردار سے سماجی تنظمین بھی بے خبر ہیں اور ضلعی انتظامیہ بھی لاعلم ہے۔جب اداروں اور تنظیموں کا ڈیٹا موجود نہیں تو ضرورت مندوں کا ڈیٹا کہاں سے آئے گا؟یہ بہت بڑامسئلہ ہے اداروں کے درمیان رابطہ کاری نہیں ہو تو بہت سے معاملات گڑبڑ کا شکار ہوجاتے ہیں۔حالات کو سنبھالنے کے لئے رابط کاری کو منظم انداز میں استوار کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ دور کے اندر کمپیوٹرنے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہوئی ہیں۔کمپیوٹر میں بہت سارا ڈیٹا آسانی سے سب کے لئے دستیاب ہوتا ہے ایک بٹن دبانے پر سارا ڈیٹا مل جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جدید ترین سہولت سے فائدہ اُٹھانے کی طرف توجہ دی جائے اور ملک کے دوردراز اضلاع یادیہات میں کام کرنے والے پُرانے اداروں اور پُرانی تنظیموں سے کام لیا جائے۔ان اداروں اور تنظیموں میں شہری دفاع کا ادارہ سب سے اہم ہے یہ امن کے زمانے میں بھی عوام کے اندر بیداری پیدا کرتا ہے۔عوام کی استعداد میں اضافہ کرتا ہے۔جنگ اور آفات کے دنوں میں عوام کی مدد کرتا ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


