چترال (محکم الدین) سابق ایم این اے چترال شہزادہ افتخارالدین نے کہا ہے۔کہ چترال کے معروف سیاحتی مقامات گرم چشمہ اور کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر اور گیس پلانٹ کی تنصیب میں رکاوٹ اورغیر معمولی تاخیر سے موجودہ حکومت کی چترال کے عوام کے مسائل سے عدم دلچسپی کھل کر سامنے آئی ہے۔ یہ منصوبے سابقہ حکومت میں اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں تھے۔ کہ اقتدار کی تبدیلی آڑے آگئی۔ اس وقت سے ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ جبکہ یہ چترال کیعوام کے منصوبے ہیں۔ میڈیا سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ کہ سابق حکومت نے چترال کیلئے مجموعی طورپر 90ارب روپے کے منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ جن میں سے تقریبا 62ارب روپے لواری ٹنل اور گولین ہائیڈل کی تعمیر پر خرچ ہوئے۔ جبکہ بقیہ بجلی ٹرانسمیشن لائن، گیس پلانٹ اور روڈز کی تعمیر پر خرچ ہونے تھے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے۔ کہ گیس پلانٹ کیلئے زمین خریدنے کے باوجود منصوبوں پر کام اب تک رکیہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال ایک نظر انداز شدہ ضلع بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں دور دور تک ترقی کے آثار نظر نہیں آتے۔ اور زندگی جمود کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ موجودہ حکومت کی چترال کے ساتھ امتیازی سلوک کے علاوہ خود مقامی لوگوں کی طرف سے اپنے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے نمایندے منتخب نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ بعض پارٹیاں انتخابات کو اسلام کی جنگ قرار دے کر مذہب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جبکہ یہ کوئی ایسا معرکہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ مذہبی پارٹیوں کی مرکز نگاہ بھی اگر ترقیاتی منصوبے ہی ہیں۔ تو انتخابات کو صرف مذہب کے ساتھ جوڑ کر مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ وہ اپنی بساط کے مطابق چترال کی ترقی کیلئے کوششیں جار ی رکھیں گے۔ اور متذکرہ بالا منصوبے تعمیر ہو کے رہیں گے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


