داد بیداد۔۔جو ہڑ یا دفتر۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

اخبارات میں دو خبریں ایک ساتھ لگی ہیں بڑی خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی صو بائی حکومت نے صوبے میں سیا حت کی الگ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے دوسری خبر یہ ہے کہ صو بائی حکومت نے سٹلمنٹ کے محکمے میں دو سال سے زائد عرصہ ایک سٹیشن اور ایک ہی عہدے پر کام کرنے والے ملا زمین کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے دو نوں خبریں خوش آئیند ہیں ان کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے تا ہم پشاور کے ایک سنئیر اخبار نویس نے تجویز دیا ہے کہ دو سال سے زائد ایک سٹیشن اور ایک ہی پو سٹ پر کام کرنے وا لے ملا زمین کی تبدیلی کا دائرہ محکمہ سیا حت تک وسیع کیا جائے حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لو گ ایک پوسٹ پر کئی سال براجماں رہتے ہیں ان کی کار کر دگی کچھ نہیں ہوتی جنرل فضل حق مرحوم ایسے لو گوں کو انگریزی میں پیرا سائیٹ (parasite) کہتے تھے ایک میٹنگ میں سنگ مر جان خان نے مر حوم کی بذلہ سنجی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایک دفتر میں 2سا لوں سے زیا دہ گزار تے ہیں ان کو دفتر کی بہت سی کار آمد باتیں زبا نی یا د ہو تی ہیں ان کے پاس ادارہ جا تی یاداشت (Institutional memory)ہو تی ہے جنرل فضل حق نے کہا یہی چیز کار کردگی کو متا ثر کر تی ہے ہر دفتر کی ہر سیٹ پر ہر دو سال بعد نئے لو گوں کو آنے دو وہ کام کرینگے محنت کرینگے سیکھینگے اور دوسروں کو سکھائینگے ایک اور مو قع پر جنرل فضل حق نے کہا جو لوگ 2سال ایک پو سٹ پر گذار نے کے بعد تبدیل ہو نا نہیں چا ہتے وہ نا لا ئق اور نکمے ہوتے ہیں جنرل فضل حق نے اُن کے لئے انگریزی میں Idiotکا لفظ استعمال کیاانگریزی کا ایک مشہور مقولہ نظم نسق کے تر بیتی ادارو ں میں بہت تکرار کے ساتھ پڑ ھا یا جا تا ہے مقو لے کا آسان اردو تر جمہ یہ ہے کہ ”جو شخص 2سال سے زیا دہ عرصہ ایک ہی محکمے کے اندر ایک ہی پو سٹ پر لگا ہوا ہے تو تحقیق کرو کہ خرا بی اُس شخص میں ہے یا اُ س محکمے میں ہے؟ اگر خرابی نہ ہو تی تو اُس کو ایک ہی پوسٹ پر 2سال سے زیا دہ عرصہ نہیں رکھا جا تا“محکمہ سیا حت کو گزشتہ 10سا لوں کے اندر بہت مرا عات دی گئیں بے تحا شا فنڈ بھی فرا ہم کئے گئے لیکن کار کر دگی نظر نہیں آئی وجہ یہ ہے کہ یہاں پیر اسائیٹ کلچر بہت پختہ ہو چکا ہے 15سا لوں سے وہی لو گ اہم پو سٹوں پر لگے ہوئے ہیں اگر تفتیش کی جائے اور 15سال سے زائد عرصہ گذار نے والے افیسروں کو دوسرے محکموں میں تبدیل کیا جائے تو محکمہ سیا حت کی کار کر دگی میں نما یاں بہتری نظر آئیگی دوسرے صو بوں اور با ہر کے ملکوں سے آنے والے سیا حوں کا یہ شکوہ بھی دور ہو جائے گا کہ خیبر پختونخوا میں قا بل افیسروں کی کمی ہے سیا حت کو فروغ دینے کے لئے پنجاب اور سند ھ سے قابل افیسروں کی ٹیم کیوں نہیں بلائی جاتی؟ ہمارے ہاں قابل، محنتی اور تجربہ کار افیسروں کی کمی نہیں یہ لو گ یو نیور سٹیوں میں بھی ہیں سول سکر ٹریٹ میں بھی ہیں اور فیلڈ میں بھی ہیں پا کستان ایڈ منسٹر یٹیو سروس (PAS) افیسروں میں بھی ہیں پرونشل منیجمنٹ سر وس (PMS) افیسروں میں بھی ہیں ڈاکٹر احسان علی ان میں نما یاں افیسر ہیں ڈاکٹر ناصر علی خان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے ڈاکٹر جمیل چترالی کا نام بھی لیا جا سکتا ہے سول سروس کے بے شمار افیسروں کو محکمہ سیا حت کے لئے مو زوں قرار دیا جا سکتا ہے اتھارٹی بننے سے پہلے محکمہ سیا حت کی مثال جو ہڑ کی سی تھی جس میں 15سا لوں سے تعفن زدہ پا نی ٹھہرا ہوا ہے اب اس کو رواں دریا بنا کر بے بیکراں حیثیت دینے کے لئے نئے خون نئے جذبے اور نئے ولولے کی ضرورت ہے ہمیں پنجاب اور سندھ سے قابل افیسر بلا نے کی ضرورت نہیں صوبے کے اندر قابل اور تجربہ کار افیسر مو جو د ہیں خیبر پختونخوا کے سیا حتی مقا مات میں سوات، دیر، چترال، کاغا ن، نا ران اور گلیات کے علا وہ پاڑہ چنار، تیراہ، خیبر، مہمند، اورکزئی،جنوبی وزیر ستان اور شما لی وزیر ستان بھی شامل ہیں قابل اور تجربہ کار افیسروں کی نئی ٹیم آگئی تو صوبے کے طول و عرض میں سیا حت کے موا قع کونمایاں طور پر اجا گر کیا جا سکتا ہے۔