چترال (نمائندہ چترال میل)ماڈل ٹرائیل مجسٹریٹ کورٹ کے جج ناصر خان نے گزشتہ مارچ میں ایون گاؤں میں پولیو مہم کے دوران خاتون پولیو ورکر پر حملے میں ملوث ماں اور بیٹی کو جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 10ہزار 796روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ استعاثہ کے مطابق اس سال 25مارچ کوصحن پائین ایون گاؤں میں امیر خان کی بیوی مشرف بی بی اور بیٹی نسیمہ بی بی نے محکمہ صحت کے لیڈی ہیلتھ ورکر شازیہ بی بی پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ پولیو مہم کے سلسلے میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے ان کے گھر میں داخل ہوئی۔ ماں بیٹی نے شازیہ بی بی کو دھکے دے کر گھرسے باہر نکالا اور مزید دھکا دینے پر وہ نالی میں گرگئی اور ان کے جسم پر کئی جگہوں پر زخم آئے۔ ماڈل ٹرائیل کورٹ کے عدالت میں چالان پیش ہونے کے ایک ماہ کے اندر اندر عدالت نے ماں بیٹی کو مجرم قرار دے کر انہیں جرمانے کی سزا سنادی جس کی عدم ادائیگی پر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت کاروائی ہوگی۔ دریں اثناء عوامی حلقوں نے ایک ماہ کی قلیل مدت میں انصاف فراہم کرنے پر مسرت کا اظہار کیاہے جس سے پولیوورکروں میں تحفظ کا احساس اجاگر ہوگا اور فوری انصاف کی فراہمی کے نظام کو عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل قراردی ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


