چترال (محکم ایونی) چترال پشاور سفر کرنے والے مسافروں اور مقامی لوگوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بے حسی پر ماتم کرتے ہوئے کہا ہے۔ کہ دروش سے چترال شہر تک روڈ کی حالت انتہائی شکست وریخت کا شکار ہو چکی ہے، جا بجا اُکھڑے ہوئے تارکول کے کھڈے اور دونوں سائڈوں پر کالر ختم ہونے کی وجہ سے سڑک آمدورفت کے بالکل قابل نہیں ہے۔ جبکہ مختلف مقامات پر کلوٹ ملبے سے بھر گئے ہیں اور برساتی نالوں میں سیلابی ملبے نے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ لیکن اس لاوارث روڈ کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دروش ایون، بروز سے تعلق رکھنے والے مختلف لوگوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ کہ اس روڈ کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ جبکہ ٹریفک میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ اور بھاری ٹرکوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اور آئے روز حادثات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ کہ تین ہفتے پہلے اس روڈ کے کھڈوں کی مرمت کی گئی۔ لیکن مرمت کے بعد ہی جب بارش ہوئی۔ توکھڈوں کی بھرائی میں استعمال شدہ تارکول تمام اُکھڑ گئے اور کھڈے و خندقیں دوبارہ نمایاں ہوئیں۔ سڑک کی حالت ناقابل بیان ہے۔ لیکن آج تک این ایچ اے کے کسی آفیسر نے اس کا نوٹس نہیں لیاا ور مسافروں پر جو بیت رہی ہے۔ اُس پر ادارے کی ناقص کارکردگی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے۔ کہ دروش سے چترال مین روڈ کی حالت کو بہتر بنایا جائے۔ اوراس روڈ کی مرمت کے نام پر جس ٹھیکہ دار نے ناقص میٹریل استعمال کرکے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اُس کے خلاف انکوائری کی جائے۔ مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے جو حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں۔ اور نہ عوام کی مشکلات کا اُنہیں احساس ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


