معاشرے میں برائیوں اور منکرات کے خلاف جہاد میں سول سوسائٹی کا کردار بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے/ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ محمد سعید وزیر

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائندہ چترال میل) ریجنل پولیس افیسر ملاکنڈ محمد سعید وزیر نے کہا ہے کہ معاشرے میں برائیوں اور منکرات کے خلاف جہاد میں سول سوسائٹی کا کردار بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے اور قانون کا شکنجہ آخری چارہ کار ہوگا اور چترال کی مثالی طور پر پر امن معاشرے سے منشیات کے لغنت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے میں اکیلا پولیس فورس کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکے گا۔ پیر کے روز چترال ٹاؤن ہال میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لواری ٹنل کی تکمیل کے ساتھ یہاں معاشی خوشحالی کی امید ہے، وہاں ثقافتی یلغار کا بھی حدشہ ہے اور چترال کے عوام کوچاہئے کہ وہ باہر سے آنے والوں کی اچھی روایات ان سے لے لیں اور ان کی بری عادتوں سے نہ خود کو محفوظ رکھیں بلکہ ان سے چھڑانے کا اہتمام کریں۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیاکہ چترال جیسے خوب صورت اور پر امن علاقے میں منشیات کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہئے جہاں محبت، ربط اور اقدار محفوظ ہیں جبکہ عمرانیات کے مسلمہ اصول کے مطابق جب اقدار مٹ جاتے ہیں تو ا س کے رد عمل میں شریف لوگ منشیات میں پناہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے اب چرس کی عادیوں کی پکڑ دھکڑ کی بجائے اس کاروبار میں ملوث مافیااور ان کے کارندوں پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کاسدباب ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کادشمن ہم میں دراڑ ڈال کر تقسیم کرنے کے درپے ہے جس سے ہمیں باخبر رہنا چاہئے اور اس سازش کی بنیاد قوم میں افواج کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے تمام لیڈ ی پولیس سپاہیوں کو دوسرے اضلاع سے چترال ٹرانسفر کرنے، چترال کے پولیس افسران کو ممکنہ طور پر چترال میں ایڈجسٹ کرنے اور چترال کے تمام تھانہ جات کی عمارتوں کی مخدوش عمارات کی تعمیر نو کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ پولیس کا عوام کے ساتھ رویہ مزید بہتربنانے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ نے ریجنل پولیس افیسر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ چترال پولیس اپنی مثال آپ ہے جوکہ بروغل اور اس جیسے دوردراز اور دورافتادہ علاقوں میں فرائض منصبی انجام دے رہی ہے جبکہ اس کی تاریخ بھی شاندار ہے جس کے افسران اور جوانوں نے ملاکنڈ میں انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنا لوہا منوالیا۔ ضلع ناظم نے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی چترال پولیس کو بھی اس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا ہے کیونکہ چترال پانچ لاکھ افراد کی آبادی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل کلچر کا مجموعہ ہے جوکہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ اس موقع پرنائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندے صدر تجار یونین شبیر احمد، عبدالولی خان ایڈوکیٹ، سابق ایم پی اے سید احمد خان، وقاص احمد ایڈوکیٹ، ساجد اللہ ایڈوکیٹ، محمد حکیم ایڈوکیٹ، قاری جمال عبدالناصر، حسین احمد، قلندر شاہ، نابیک شراکٹ کالاش ایڈوکیٹ، عبداللطیف، نوید احمد بیگ، قاضی نسیم اور دوسروں نے عوام کو درپیش مسائل بیان کئے۔ ضلع ناظم نے تجاریونین کی طرف سے مہمان کو چترال کا روایتی تخفہ چغہ اور چترالی ٹوپی پیش کی۔ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کپٹن (ریٹائرڈ) محمد فرقان بلال بھی اس موقع پرموجود تھے۔