چترال (نمائندہ چترال میل) صدر تجار یونین شبیر احمد خان نے پیر کی شام چیوبازار میں آتشزدگی پر قابو پانے میں ناکامی پر ریسکیو 1122کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس ادارے میں سفارش اور سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پر بھرتی کا خمیازہ چترالی عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے کیونکہ غیر مقامی اور غیرتربیت یافتہ اسٹاف نہ تو متاثر ہ مقام پر بروقت پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی وقت ضائع کئے بغیر کام شروع کرسکتے ہیں جنہیں نیوزل کھولنا بھی نہیں آتا۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد، سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن اور دوسرے رہنماؤں حافظ انعام میمن، صلاح الدین طوفان، حافظ کفایت اور دوسری کی معیت میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ریسکیو 1122کی بار بار ناکامی کا نوٹس لیا جائے اور بازار میں آتشزدگی پر جلد قابو پاکر نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے چیو بازار اور اتالیق پل میں چوبیس گھنٹہ فائر بریگیڈ سسٹم کو اسٹینڈ بائے رکھا جائے اور ٹی ایم اے کی فائر فائٹنگ کا نظام درست رکھا جائے ورنہ تاجر برادری سخت احتجاج پر اتر آئے گا۔ اس موقع پر ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ آتشزدگی کا عینی شاہد ہونے اور ریسکیو 1122کی غیر پیشہ ورانہ کام اور سستی وغفلت سے وہ انتہائی مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں اوراس ادارے کی ناکامی کو وہ گزشتہ ہفتے بھی پولو گراونڈ کے قریب آتشزدگی کے موقع پر دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ حکومتی اداروں کی شدید غفلت اور ناکامی سے چیو بازار کے چار دکانداروں کو کروڑ وں روپے کا نقصان لاحق ہوگیا ہے لہٰذا ان کو مالی امداد کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے ریسکیو 1122چترال میں خالی پوسٹوں پر مقامی اہل افراد کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا جن کے ٹیسٹ انٹرویو بھی منعقد ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کے قوانین میں ترمیم کے ذریعے آتشزدگی کے متاثر یں کوبھی معاوضے دینے کے لئے حکومت نے بل پیش کردی ہے جس کی منظوری کی صورت میں تاجر برادری مستفید ہوگی۔ مولانا جمشیداحمد اور مولانا عبدالرحمن نے کہاکہ پولو گراونڈ میں پو لو کے موقع پرپانی چھڑکنے کے لئے فائر بریگیڈ گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے مگر آتشزدگی میں اس کا بروقت نہ پہنچنا افسوسناک بات ہے۔ا نہوں نے کہاکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران آتشزدگی کے واقعات میں ریسکیو 1122کی ناکامی کی قلعی کھل گئی ہے اور اس ناکامی پر حکومت کو چاہئے کہ وہ بھرتیوں کے عمل میں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر بھرتی کاعمل مکمل کیا جائے جس میں مقامی افراد کو ترجیح دئیے جائیں۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


