محکمہ جنگلات ضبط شدہ عمارتی لکڑی چترال میں ہی نیلام کرائے، مقامی لوگوں کو فائدہ ملے گا، عوامی حلقوں کا مطالبہ

Print Friendly, PDF & Email

چترال(نمائندہ چترال میل) چترال کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر کاٹے گئے درختوں کو محکمہ جنگلات کی طرف سے ضبط کرنے کے بعد انہیں چترال سے باہر درگئی کے ٹمبر مارکیٹ منتقل کرکے وہاں پر عام نیلامی کی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر کی طرف سے چند ہفتے قبل مختلف اخبارات میں مشتہر کیا گیا کہ ارندو جنگل میں غیر قانونی کٹائی شدہ درختان از قسم دیار (سلیپر) وغیرہ کو محکمہ نے ضبط کرنے کے بعد درگئی ٹمبر مارکیٹ منتقل کیا ہے جہاں پر ہر مہینے کی 9 اور 22تاریخ کو دن 11بجے ان سلیپران کی نیلامی ہوگی۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چترال کے لوگ پہلے سے ہی عمارتی لکڑی کی وجہ کافی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ مکانات کی تعمیر کے لئے عمارتی لکڑی کے حصول کے لئے محکمہ کی طرف سے لوگوں کو قلیل مقدار میں پرمت جاری کی جاتی ہے اور ضرورت کے مطابق لکڑی کے حصول کے لئے لوگوں کو در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتا ہے۔ چترال میں سرکاری سطح پر ٹمبر مارکیٹ قائم کرکے عوامی مشکلات کو کم کیا جاسکتا ہے جہاں پر لوگوں کو انکی ضرورت کے مطابق لکڑی میسر آئے گی اور اس طرح غیر قانونی کاروبار کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال میں عمارتی لکڑی کی ضبط کرنے کے بعد انہیں ضلع سے باہر ٹمبر مارکیٹ منتقل کرنے پر مکمل پابندی عائد کرکے ایسے عمارتی لکڑی کو چترال کے اندر ہی نیلام کیا جائے۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ چترال میں ضبط شدہ لکڑی کو دیگر اضلاع منتقل کرنا علاقے کے ساتھ ناانصافی ہے لہذا چترال کے اندر ٹمبر مارکیٹ کو فروغ دیکر لوگوں کو سہولت پہنچائی جائے۔