چترال (نمائندہ چترال میل)ٹی ایم او چترال قادرناصرنے اپنی ٹیم کے ہمراہ چترال بازارمیں چیکنگ کے دوران غیرمعیاری اور ایکسپائراشیاء فروخت کرنے، نرخنامے پر عملدرآمدنہ کرنے، ناپ تول، صفائی کے ناقص معیار اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دس دکانداروں کوجرمانہ اورکئی دکاندارو ں کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کاحکم دیا۔عوامی حلقوں نے ٹی ایم اوچترال قادرناصرکی طرف سے بازار چیکنگ کے دوران غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف کار وائیوں کو اطمینان بخش قراردیا۔ اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھاجائے۔تاکہ قانون شکن عناصر پر قانون کی عملداری کا خوف قائم ر ہے۔پانی کی بے دریغ استعمال،غیرقانونی دوکانوں کی تعمیرپرکئی دکان مالکان کوبھی نوٹس جاری کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اندرون چترال میں غیر قانونی تعمیرات خصوصاً تجاوازت اورواش روم کی تعمیر پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ہرچھ دکان کے ساتھ ایک واش لازمی بنانالازمی ہوگا۔اورپانی کے بے دریغ استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروئی کی جائے گی۔سرکاری حدود پرتعمیرشدہ ہرقسم کی مکانات کومسمارکردیاجائے گا۔اس موقع پرصدرتاجریونین شبیراحمد،ٹی ایم او دروش مصباح الدین،منیجرWSUمنیراحمداوردیگراسٹاف موجودتھے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری




