چترال (نمایندہ چترال میل) ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال رحمت الہی نے ڈی ایف او چترال سے پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ کہ چترال سے کون سمیت چلغوزے ضلع سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کی جائے۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا۔ کہ چلغوزوں کو کون سمیت درخت سے اُتار نا ہی غلط طریقہ ہے۔ کیونکہ اس سے چلغوزے کے درخت کی شاخیں اور کچے پھل متاثر ہوتی ہیں۔ اس لئے بہتر طریقہ یہی ہے۔ کہ درختوں پر ہی اُن کے مکمل پکنے کا انتظار کیا جائے۔ اور اگر یہ ممکن نہیں۔ تو چلغوزے کے کون ضلع سے باہر لے جانے پر پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ چلغوزے کے کون جلانے کے کام آتے ہیں۔ جس سے بڑے پیمانے پر ایندھن کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اور چلغوزے کون سے علیحدہ کرنے کے کام سے بھی کئی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اس لئے چترال اور خصوصا جنگلاتی علاقے کے بہتر مفاد میں چلغوزے کے کون کی منتقلی پر پابندی لگائی جائے۔ رحمت الہی نے کہا۔ کہ اس حوالے سے پہلے ہی ضلع کونسل چترال میں ایک متفقہ قرار داد چلغوزہ کون کی ضلع سے باہر لے جانے پر پابندی کے حوالے سے منظور کی گئی ہے۔ اس کے باوجود اب بھی چلغوزہ بمعہ کون لے جایا جارہا ہے۔ انہوں نے ڈی ایف او چترال سے پابندی کا مطالبہ کیا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


