دھڑکنوں کی زبان۔۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان۔۔محمد جاوید حیات

Print Friendly, PDF & Email

مجھے ہمیشہ تعلیم یافتہ لوگوں کی تلاش رہتی ہے۔۔جس کے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں ان کے پاس درست رویہ نہیں ہوتا۔۔ان سے ایسا ملنا ہوتا ہے کہ گویا آپ بادشاہ سلامت کے استان کو بوسہ مار رہے ہیں۔اور جس کے پاس اخلاق،کردار اور درست رویہ ہوتا ہے اس کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی۔ زمانہ اس کو تعلیم یافتہ نہیں کہتا۔۔اس لئے ایسے لوگ جو اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ ڈگری یافتہ ہوتے ہیں ان کی صحبت کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی۔۔وہ آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔جان کلبی اور کنفیوشس سے لے کر مولانا روم تک کوان کی تلاش رہی ہے۔۔مولانا روم نے تڑپ کر کہا تھا۔۔
دی شیخ باچراغ ہمین گشت گرد شہر
کز دام و دت ملولم و انسانم آرزوست
از ہمراہاں خشک عناصر دلم گرفت
شیر خدا و رستم و دستانم آرزوست
ہمارے معاشرے میں ناہمواری کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہماری تعلیم میں تربیت کا عنصر مفقود ہوتا جارہا ہے۔۔اساتذہ جو معاشرے کا نبض شناس ہوتے ہیں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں یا شاید اس کی اہلیت نہ رکھتے ہوں کیونکہ معاشرہ ایک بے ہنگم شور کے مصداق ہے اس نقار خانے میں اپنی آواز کی شنوائی کے لئے بڑے صبر آزما مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں لیکن اساتذہ وہ خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس قوم کی نرسری ہوتی ہے۔۔پی ڈی سی میں ٹریننگ کے دوران ان سب کا تجربہ ہوا۔۔تعلیم یافتہ لوگوں کی انجمن مل گئی۔۔ایک پی ایچ ڈی سکالر آپ سے ایسا مخاطب ہوتا ہے جیسے اس کو کچھ نہیں آتا ہو۔۔ایک ایم فیل سکالر آپ کے سامنے بچھا جاتا ہے۔۔اس محفل میں اس بات پہ یقین ہوتا ہے کہ واقعی تعلیم رویوں میں مثبت تبدیلی کا نام ہے ورنہ تو یہ پتھروں کا معاشرہ ہے۔جہان اونچ نیچ کی دیوار ہے جس کے نیچے دب کے مرنا ہے۔۔اس سیشن میں ہمیں بتا یا جاتا ہے کہ واقعی ہم مربی ہیں۔۔استاد ہیں۔۔سہولت کار ہیں۔۔راہنما ہیں۔۔محسن ہیں۔۔زمانہ ساز ہیں۔۔معماران قوم ہیں۔۔پھر ہمیں باغبان کہہ کر ان پھولوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جو ہمارے اس گلشن میں ہوتے ہیں۔۔پھر ہمیں ان کی نالائی،سینچائی،تراش خراش اور تربیت کی مہارتیں سیکھائی جاتی ہیں۔۔اور اُمید باندھائی جاتی ہے کہ مستقبل ہمارا ہے۔۔یہ ایسامرحلہ ہے جس میں ایک انسان کی منزل کا تعین اس سے کرایاجاتا ہے۔۔اب منزل کی طرف سفر اگر چہ اسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں اس سفر کو ممکن بنانے کے لئے زاد راہ کیا ہونی چاہیے۔۔اس میں سب پہلا اور اہم چیز جو ہے وہ ایک تعاون کی فضاء ہے۔۔سکول کے اندر انچارچ استاد سے لے کر بچے تک ایک کارواں کے ساتھی ہوں۔۔ ان کا وژن واضح ہو۔۔ان کا مشن عزم کے ساتھ ہو اور وہ تعاؤن کو رحمت سمجھیں۔۔ اکھٹے کام کو کامیابی تصور کریں۔۔ان کی نگاہیں دوربین ہوں۔وہ شرافت سے بھرے پورے ہوں۔وہ شرین دھن ہوں۔۔اس کے سینوں میں درد ہو۔کچھ کرنے کا اور کچھ کرکے دیکھا نے کا شوق ہو۔۔ان کا عزم بلند ہوں۔۔وہ ایثار و قربانی کا زندہ مثال ہوں۔۔ان کی دنیا ان کے ادارے کے اندر آباد ہوں۔۔وہ خود اپنے آپ کا نگراں ہو ں۔۔وہ فرض کو قر ض سمجھیں۔۔ان میں حسد،کینہ،بعض،خود سری خود نمائی نہ ہو۔۔وہ کردار کی زندہ مثال ہوں۔۔ان میں ایک دوسرے کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔۔وہ رول ماڈل ہوں۔۔وہ مددگار،صلاح کار ہوں۔۔ ایک اچھا دوست۔۔ایک باصلاحیت رہنما۔۔ایک قابل اعتماد ساتھی۔۔محبت کا مرقع۔۔خلوص کی چٹان۔۔نیت کا صاف۔۔دل کا کھرا ہوں۔۔ان کا لہجہ شہد۔باتیں تریاق۔۔چہرہ ایک مہکتا گلاب۔۔مسکراہٹ چاند کی چاندنی۔۔باتیں پھول جیسی ہوں۔۔ان کا ساتھ خوش قسمتی کی علامت ہو۔۔۔وہ شرافت کا تاج محل ہوں۔۔وہ سارے جہان کا درد اپنے سینے میں اٹھائے ہوئے ہوں۔۔ان کی انسانیت سے محبت کی خوشبو سارے گلشن انسانیت کو معطر کرے۔۔وہ معاشرے میں امن و اشتی کے سفیر ہوں۔۔وہ ایک کھلی کائنات ہوں۔۔بے کران فضاء جس میں کئی کہکہشان اپنا راستہ بھول جائیں۔۔تب وہ گلشن انسانیت کے ان پھولوں کو سینچ سکتے ہیں۔۔ان کو تب اپنے استاد ہونے پہ فخر ہوتا ہے۔۔ہم نے بحیثیت استاد عمریں گذاردیں۔ لیکن اب کی بار اپنے آپ کو جھنجھوڑ کر جگانا پڑا ہے کیونکہ ایک تو تعلیم یافتوں کی محفل کا حصہ بنے ہیں اور دوسرا اس کارواں کا حصہ بن رہے ہیں جن کی منزل ”سپنوں کا سکول“ ہے۔۔پی ڈٰ ہی سی میں ٹریئنگ کے دوران ان تما م طریقوں کی بھی نشاندھی کی جاتی ہے جو تعلیم و تعلم جیسی جد و جہد میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔۔ان میں انفرادیت،انانیت،گروپنگ،تشدد،بچوں سے فاصلہ رکھنا،امتیازی سلوک،والدین کو اہمیت نہ دینا،ساتھی اساتذہ کو ساتھ لے کے نہ چلنا،بچوں کی مجبوریوں سے بے خبر رہنا،ایک لیڈر اور مربی کا کردار ادا نہ کرنا،بے جا لالچ،طمع،اپنے کام میں عدم دلچسپی،اپنے علم میں اضافہ نہ کرنا،اپنی مہارتوں کی مشق نہ کرنا اور اس جیسی بہت ساری کمزوریاں ہیں جو استاد بننے کی راہ میں روکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔۔ان سے اپنے آپ کو بچا کے ہی کوئی بندہ استاد کہلانے کا حق رکھتا ہے۔۔اس ٹریننگ سے وہ ساری روشن راہیں کھل جاتی ہیں۔جو ایک معلم کو قوم کا خادم پھر معمار بناتی ہیں۔ ان میں مثبت رویہ،اعلی اخلاق و کردار،جہد مسلسل،اپنے کا م سے عشق،اپنے ساتھیوں کو لے کے آگے بڑھنا،اپنے علم میں اضافہ کرتے رہنا اور مہارتوں کی مشق کرتے رہنا،والدین سے رابطہ۔۔بچوں کی نفسیات اور کمزوریوں سے اگاہی،ان سے محبت ہمدردی اور خلوص سے پیش آنا۔یہ یقین کرنا کہ بچے ان کے لئے کھلی کائنات ہیں۔وقت کی پابندی،ان تھک محنت،بلند توقعات،سنہرے خواب،عزم حوصلہ،صبر،اور اپنے آپ کی پہچان ہیں۔۔۔ واہ یہ بھی کیا مقام ہے۔اگر کوئی اس مقام کو سمجھے تب اس تک پہنچنے کی جد و جہد کرتا ہے جس پہ فخر موجوداتﷺ نے فخر کیا تھا۔۔یہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کی فیض ہے کہ ہم واقعی اس مقام کو پہچاننے لگے ہیں۔۔پی ڈی سی میں اپنے اساتذہ اور ساتھیوں پہ بجا طور پہ فخر ہے