چترال(نمائندہ چترال میل)گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چترال پریس کلب میں میڈیا کے نمائندہ گان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سینیٹ کے انتخابات میں کامیاب اسمبلی اراکین کوتہہ دل سے مبارکباددیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبران نے ووٹ کا صحیح استعمال کرکے پچھلے سینٹ کے انتخابات کی طرح کرپٹ ٹولے کو دوبارہ آنے کا موقع نہیں دیا۔اُنہوں نے کہا کہ سابقہ دور کے سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے اپنے فنڈز کو اپنے بھائی زرنصیب خان ودیگر کے ذریعے میری تعمیراتی فرم پر مجھ سے منسوب میرے ہی جعلی دستخطوں سے محکمہ پاک پی ڈبلیو ڈی بٹ خیلہ کے افسران کے ساتھ ساز باز کرکے کروڑوں روپے ٹینڈر لیے اور کرپشن کی انتہا کردی۔اس بار بھی جے یو آئی نے مولانا گل نصیب خان کودوبارہ سینیٹ کا ٹکٹ دیا جوکہ ہر گز اُس کے لئے اہل نہیں تھا اور اُس کی اہلیت بھی الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا جاچکا تھا۔ناصر احمد خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں جمعیت علماء اسلام کا مخالف نہیں بلکہ صرف اور صرف گل نصیب خان اور اُسکے کرپشن کا مخالف ہوں۔اُنہوں نے کہاکہ جے یو آئی ایک اسلامی پارٹی ہے اور ایسی پارٹی کے سربراہ بھی نیک پارسا لوگ ہونے چاہیں اور یہ بات سینیٹ کے لئے بھی قابل ستائش ہے کہ گل نصیب خان جیسے لوگوں سے نجات ملے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


