چترال(نمائندہ چترال میل)انسانی حقوق کے علمبردار نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے ایک اخباری بیان میں بعض سیاسی لیڈروں کی طرف سے چترال شہر میں خواتین کے لئے مخصوص ”خواتین تجارتی مارکیٹ“کے قیام کی مخالفت پر تشویش کا اظہا رکیا ہے۔اور اُسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ خواتین جہاں چاہئے اپنی مرضی کے قانونی تجارت اور کاروبار کرسکتی ہیں۔اگر چترال شہر میں کسی خاص مخصوص جگہے کوخواتین کے لئے تجارتی مرکز کے طورپر مختص کیا گیا ہے تو اس میں کونسا کام غیر شرعی ہے۔نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا کہ جب خواتین ملازمت کرسکتی ہیں،قومی،صوبائی اسمبلی یا ڈسٹرکٹ اسمبلی میں بیٹھ کر نمائندگی کرسکتی ہیں تو وہ کاروبار کیوں نہیں کرسکتی۔اُنہوں نے کہا کہ چترالی ماؤں بہنوں پر بد اعتمادی کا اظہاردرحقیقت ان لوگوں کی تنگ نظری کی علامت ہے اور یہ سیاسی پوائنٹ سکورینگ کی ناکام کوشش ہے۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


