زرداری اور طاہر القادری کا گٹھ جوڑ
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کبھی دریا میں سمندر نہیں گرتا
پی پی پی کے طاہرالقادری کے ساتھ ملنا کچھ ایسا ہی ہے جس سے طاہرالقادری کی قوت اور ووٹ بنک میں اضافہ ہوسکتا ہے مگر بغض علی میں پی پی پی کا لاہور ہائی کورٹ سے بدنیتی کا سرٹیفیکیٹ لینے والے فرد سے ملنا پی پی پی کو نقصان اور ملک میں سیاسی انتشار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ بالکل اسی طرح پی ٹی آئی کے ابھرتے ہوئے جمہوری قوت کو نون لیگ کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے ایک واضح جمہوری قوت کے طور پر اور مضبوط حزب اختلاف کے طور پر عوام الناس میں نمایان پوزیشن حاصل کیا ہے۔ پی پی پی کے ووٹ بنک کو توڑ کر پی ٹی آئی کومضبوط کیا ہے خان صاحب کا زرداری جس پر کرپشن کے الزامات لگا کر پی ٹی آئی ابھر گئی ہے انکے ساتھ خان صاحب کا صرف نواز مخالفت میں بیٹھنا پی ٹی آئی کے ورکروں کو مایوس کرکے پی پی پی کو دوبارہ مضبوط کرنے کا سبب ہوگا۔ پی ٹی آئی ایک سمندر اور سونامی کے طور پر حقیقی طور پر جمہوری قوت بن گئی ہے لہٰذا عوام الناس 2018ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی جگہ متبادل کے طور پر اپنا چکی ہے۔ محض الیکشن سے پانچ ماہ پہلے منفی اتحاد کا حصہ بن کر پی ٹی آئی اپنے بیس سالہ بنائے ہوئے مقام کو کھودے گا۔
لہٰذا پی ٹی آئی کو اب صرف اور صرف اپنے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 62اور 63پر پورا اترنے والے امیدواروں کے انتخاب پر رات دن کام کرنا ہوگا اور ایک مضبوط آرگنائزنگ کمیٹی بناکر سب سے پہلے پنجاب میں پھر سندھ میں بلوچستان اور سرحد میں 400حلقوں میں مضبوط امیدواروں کے انتخاب کا کام ہی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ورنہ پھر 2018ء سے 2013ء تک دھرنوں کے لئے تیاری کیا جائے جو پی ٹی آئی کا اور پاکستان کے لئے کسی طرح فائدہ مند نہیں ہوگا۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


