وزیر اعظم کا متوقع دورۂ چترال۔۔۔ تحریر: محکم الدین ایونی

Print Friendly, PDF & Email

وزیر اعظم کا متوقع دورۂ چترال
ماہ دسمبر میں وزیر اعظم کے دورۂ چترال کی توقع کی جارہی ہے۔ گو کہ ابھی تک تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم یہ امید کی جا سکتی ہے۔ کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی چترال کا ضرور دورہ کریں گے۔ چترال کے عوام کیلئے یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ وزیر اعظم اپنے دورۂ چترال کے موقع پر گولین ہائیڈل پراجیکٹ، گرم چشمہ روڈ، کالاش ویلیز روڈ ز دروش چترال روڈ اور چترال میں گیس ڈپو کا افتتاح کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے پہلے ہی روز سے چترال کی طرف بھر پور تو جہ دی ہے۔ لواری ٹنل کا منصوبہ جو کہ مُردہ ہو چکا تھا۔ اُسے دوبارہ زندہ کیا۔ اور وافر مقدار میں فنڈ فراہم کرکے اسے تکمیل تک پہنچا یا۔ بلکہ اب دیر اور چترال سائڈ پر اپروچ روڈ پر بھی کام انتہائی زور و شور سے جاری ہے۔ اور لوگوں کو کام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس سے یہ اُمید پیدا ہوتی ہے۔ کہ جس طرح لواری ٹنل کی تکمیل خواب سے حقیقت کا روپ دھار گیا۔ اسی طرح بہت کم عرصے میں چترال کے اندر سڑکوں کا جال بھی بچھایا جائے گا۔ اور چترال کے لوگ جو سفری مشکلات سے دوچار ہیں۔ بہت جلد نجات پائیں گے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف میں ایک خوبی ہمیشہ سے موجود ہے۔ کہ وہ سڑکوں کی تعمیر میں شیر شاہ سوری جیسا جذبہ رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنے دور اقتدار میں لوگوں کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے پر بھر پور توجہ دی۔ مسائل کی ترجیح کے لحاظ سے دیکھا جائے۔ تو چترال جیسے دور دراز ضلع میں محفوظ سڑکوں کی ضرورت پہلی نمبر پر ہے۔ موجودہ چترال کی غربت کی ایک بہت بڑی وجہ ناقص سڑکیں ہیں۔ جن کی وجہ سے تجارت سے لے کر تعلیم و صحت اور آمدورفت تک ایسا اضافی بوجھ عوام سہنے پر مجبور ہے ۔ جو اُن کی برداشت سے باہر ہے۔ دوسرے شہروں کی نسبت چترال کے لوگوں کو دو سو سے پانچ سو گنا اضافی کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے حالات میں چترال کے اندر سڑکوں کی تعمیر سے معاشی حالات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جو ٹرالر کراچی، لاہور سے سامان لوڈ کرکے دیر میں اُنہیں اُتارنے پر مجبور ہیں، وہ براہ راست چترال پہنچ جائیں گے۔ اور سامان کے کرایوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی۔ جس کا براہ راست فائدہ چترال کے عوام کو ہو گا۔ وزیر اعظم کے متوقع دورے سے یہ توقع بھی رکھی جا سکتی ہے۔ کہ زیر تعمیر منصوبوں کے علاوہ بھی چترال کی تعمیر وترقی کیلئے اعلانات کریں گے۔ گو کہ موجودہ وزیر اعظم کا اپنا منصب سنبھالنے کے بعد چترال کا یہ پہلا دورہ ہے۔ لیکن اُنہیں چترال آنے سے پہلے ہی چترال کی مشکلات کے بارے میں خاصی معلومات حاصل ہیں۔ شہزادہ مقصودالملک ایون کے ساتھ اُن کے خصوصی مراسم ہیں،اور ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین کے ساتھ بھی اُن کا تعلق انتہائی قریبی ہے۔ اسی طرح چترال کیلئے اُن کا حالیہ متوقع دورہ بھی ایم این اے کی کو ششوں کا نتیجہ ہے۔ گذشتہ دو سالوں سے بعض مخالف سیاسی پارٹیاں ایم این اے چترال کی طرف سے چترال کی ترقی کے لئے کئے جانے والی کوششوں کی خبروں کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے۔ لیکن دیر آید درست آید کے مصداق یہ بات واضح ہو گئی ہے۔ کہ وہ عوام کو دھوکا نہیں دے رہے تھے بلکہ عملی طور پر جدو جہد کر رہے تھے۔ جن کے نتائج لواری ٹنل، گولین ہائیڈل پراجیکٹ، گرم چشمہ روڈ، ایون روڈ، تورکہو روڈ اور گیس پائپ لائن سمیت کئی منصوبوں کی صورت میں رو بہ عمل ہیں۔ اور بعض منصوبے اپنے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ جو ایم این اے کی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اُن کا یہ فیصلہ بھی قابل تحسین ہے۔ کہ انہوں نے باوجود دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی کے چترال کے مشکلات کو پیش نظر رکھ کر خود کو موجودہ حکومت کے ساتھ ایڈ جسٹ کیا۔ اور مسائل حل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ چترال کی تعمیر و ترقی اُن کا مطمع نظر رہا۔ اور چترال کے لوگوں نے اُن پر جو اعتماد کیا تھا، اُن مسائل کے حل کیلئے پارٹی کے خول میں بند رہنے کی بجائے باہر نکل کر وہ کام کئے۔ جو کسی پارٹی کے اپنے ایم این اے بھی نہیں کر سکے۔ اس لئے ان کاموں کیلئے اُنہیں کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہوگی۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے جاری منصوبوں کے علاوہ بھی چترال کے دیگر مسائل پر بھر پور توجہ دی۔ 2015کے خوفناک سیلاب اور تباہ کُن زلزلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مصیبت کی گھڑی میں وقت ضائع کئے بغیر چترال کا ہنگامی دورہ کیا۔ متاثرین سے ملے۔ اور ہر متاثرہ سالم نقصان والے گھر کو دو لاکھ اور جزوی نقصان کے حامل مکانات کیلئے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ اور وفاق کی طرف سے 2ارب 19کروڑ روپے ضلع چترال کو فوری طور پر ریلیز کئے۔ اس موقع پر چترال میں دو سو بستروں کے ہسپتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا ۔ مگر بد قسمتی سے صوبائی حکومت کی طرف سے زمین کی فراہمی میں عدم تعاون کی وجہ سے یہ منصوبہ کٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ تاہم اس ہسپتال کی تعمیر جدید خطوط کے ساتھ انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے متوقع دورے سے پہلے یہ ضروری ہے۔ کہ چترال کے سیاسی قائدین اپنے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف باہمی مشاورت سے مشترکہ سپاسنامہ تیار کریں ۔ جس میں سی پیک منصوبہ، چترال تاجکستان روڈ، آبی وسائل، کلائمیٹ چینج، ماربل سٹی سمیت دیگر مسائل کو شامل کیا جائے ۔ بلکہ شاندار استقبال کرکے مسائل حل کرنے کیلئے موجودہ وزیر اعظم کی خصوصی توجہ حاصل کی جائے۔