داد بید اد۔۔ اسمبلیوں کی موت۔۔ چابہار او ر گوادر۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

ؔ
اسمبلیوں کی مدت
کچھ لوگ موجو دہ اسمبلیوں کو توڑ کر انتخابات کر وانے کا مطالبہ کر رہے ہیں کچھ لوگ نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بند یوں کے بعد انتخابات کا مشورہ دیتے ہیں بعض سیاستدان اسمبلیوں کی مدت پوری کر کے پرانی حلقہ بند یوں کے مطابق انتخابات کی تجویز دیتے ہیں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو انتخابات کوکم از کم 20 سالوں کے لئے موخر کر نا چاہتا ہے یہ لوگ صفر کو حذف کر کے صرف 2 سالوں کے لئے قومی حکومت کے نا م پر سابقہ جرنیلوں،ججوں اور ریٹا ئر ڈافسروں کی حکومت لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں غر ض ہماری موجودہ سیاست پر شاعر کا وہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ ”کچھ نہ سمجھے خدا کر ے کوئی“ شہاب نامہ ہماری سیاسی تاریخ کی چشم دید کہانی ہے اس میں 1956 ؁ء سے 1958 ؁ء تک اور 1958 ؁ء ے 1966 ؁ء تک ہماری قومی زندگی کے شب و روز کا تماشا بلا کم و کا ست دکھا یا گیا ہے جنرل آغا محمد یحییٰ خان کی حکومت سے بھی چید ہ چید ہ جھلکیا ں دکھا ئی گئی ہیں حمو د الرحمن کمیشن کی رپورٹ بھی قومی دستاویز ہے اس کے چید ہ چید اوراق دستیاب ہیں اس کی دستیا ویز ی شہادتیں انٹر نیٹ پر موجو د ہیں 10 سال کے بچے بھی یوٹیوب پر سقو ط ڈھا کہ کی فلمیں دیکھ لیتے ہیں اور ماں باپ کو دکھا تے ہیں یہ سارے کا سارا مواد دو باتوں کی شہادت دیتا ہے پہلی بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کی باہمی دُشمنی، بُغض،رقابت اور حسد سے افسر شاہی کو فائد ہ اُٹھا نے کا موقع ملتا ہے اسٹبلشمنٹ آگ کو بھڑ کا تی ہے اور فائد ہ اُٹھا تی ہے دوسری بات یہ ہے کہ سیاستدان اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور اپنی معمولی خواہشات کے لئے ملک کے اندر نسلی،مذہبی، لسانی اور گروہی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں 1971 ؁ء کا مشرقی پاکستان اور 2017 ؁ء کا بلوچستان، یا کراچی اس کی مثال ہیں مشرقی پاکستان کا سانحہ ایک دم رونما نہیں ہوا مولوی اے کے فضل الحق کے خلاف سازش سے اس کا آغاز ہوا، حسین شہید سہر وردی جیسی نابغہ روزگار شخصیت کے خلاف محاذ بنا کر ان کی حکومت توڑ دی گئی مولوی تمیز الدین خان کو غیر قانونی طور پر نکال دیا گیا شیخ مجیب الرحمن کو 1971 ؁ء سے 4 سال پہلے غدار قرار دے کر دشمن کے کیمپ میں دھکیل دیا گیا یہ کام افسر شاہی نے ججوں اور جرنیلوں کی مد د سے نہیں کیا سیاستدانوں نے اپنی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے ایسی حماقتوں کا ارتکاب کیا آج خیبر پختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن سے فوج کو واپس بلانے کی احمقانہ باتیں ہورہی ہیں فوج واپس چلی گئی تو سیاستدان ملکر دشمن کو راستہ دینگے دہشت گر دی واپس آجائیگی ہر سیاستدان اپنے مخالف کے گھر، دفتر،جلسہ اور جلوس پر حملہ کر نے کے لئے دشمن کو دعوت دیتا ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے جمہوریت اور سیاستدان کو بد نام کر نے والا سیاستدان ہی ہے اسمبلیوں کو بدنام کر نے والا سیاستدان ہی ہے1958 ؁ء میں ملک کے بڑے سیاستدانون کو (EBDO) کے تحت منتخب نمائیند وں کی نااہلی کا قانون لاکر نا اہل قرار دینے والے سیاسی جماعتوں کے اکا برین تھے ان اکا برین کا خیا ل تھا کہ مخالف کو نا اہل قرار دئیے بغیر مجھے وزارت نہیں ملے گی 60 سال بعد تاریخ اپنے آپ کو دہر ا رہی ہے موجودہ اسمبلیاں 5 جون 2018 ؁ء کوا پنی مدت پوری کر رہی ہیں اگر ان اسمبلیوں کو مرگ مفاجات یا غیر طبعی موت سے دو چار کیا گیا تو اگلا منظر نامہ کیا ہوگا؟ اس کی دھندلی سی تصویر نظر آرہی ہے پاکستان تحریک انصاف کے تمام ترقیاتی منصوبے نا مکمل رہ جائینگے اگر کسی مرحلے پر انتخابات ہوئے تو سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوگا موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) کے سر پر مظلو میت کی پگڑی رکھ دی گئی ہے اس پگڑی کی وجہ سے سب ے زیادہ فا ئد ہ مسلم لیگ (ن) اُٹھا ئیگی اگر جون2018 ؁ء تک اسمبلیوں کو نہ توڑا گیا تو خیبر پختونخوا میں ریپڈٹرانزٹ بس منصو بہ سمیت دیگر ترقیاتی کام مکمل ہو جائینگے انتخابات کے لئے ہو م ورک تیار ہوگی پارٹی لیڈر اور ورکر عوام کے سامنے واضح ایجنڈا لیکر جائینگے اپنی کار گردی کا ذکر فخر سے کر ینگے اور جا ر حانہ انتخابی مہم چلا ئینگے اسمبلیاں ٹوٹ گئیں تو مدا فعانہ اور معذرت خو اہانہ رویہ پی ٹی آئی کا مقدر بنے گا پنجاب ہا تھ سے نکل جائے گا سندھ اور بلوچستان پر توجہ نہیں دی گئی، خیبر پختونخواہ میں بھی پارٹی کی ساکھ متاثر ہوگی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی باتیں ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں بڑے لیڈروں کی ”بڑائی“ بڑی رکاؤٹ بنی ہوئی ہے نچلی سطح پر کارکنوں کو یہ اتحاد منظور نہیں کوئی بھی کارکن مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو قبول کر نے پر آمادہ نہیں اس لئے میدان سیکولر طاقتوں کے لئے صاف ہے مگر سیکولر پارٹیوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی کی تیاری نظر نہیں آتی انتخابات میں جتنی جلد بازی کی گئی اس کا فائد ہ مسلم لیگ (ن) کو ہوگا یہ نو شتہ دیوار ہے اس لئے پی ٹی آئی قیادت کو اسمبلیاں توڑ نے کی ضد نہیں کرنی چاہیے”ہم نیک و بد حضور کو سمجھا ئے دیتے ہیں“

چابہار او ر گوادر
خبر آئی ہے کہ بھارت سے چا بہار کی بند ر گاہ کے ذریعے گندم، چاول اور دیگر اشیا ئے خوراک کی پہلی کھیپ افغانستان پہنچے گی تو جشن کا سماں نظر آئے گا اس جشن کی تیاریاں کی گئی ہیں چا بہار ایرانی بندر گاہ ہے بھارت نے چا بہار کی بند ر گاہ سے قند ہار، ہرات اور کابل تک تجارتی شاہر اہ کی تعمیر کا کام مکمل کر کے اشیا ئے خوراک کی پہلی کھیپ روانہ کی ہے اگر نقشے پر غور سے دیکھا جائے تو چا بہار کی بند ر گاہ ہماری گوادر والی بندر گاہ کے مقابلے میں افغانستان اور بھارت کی دوستی کا ثبوت ہے جس دور میں امریکہ نے پاکستان کو ایران کے ساتھ معاشی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات ختم کر نے پر مجبور کیا گیس پائپ لائن منصوبے سے پاکستان کو دست بردار کیا کوئیٹہ سے زاہد ان اور مشہد جانے والے قافلوں پر امریکیوں نے پے درپے حملے کرکے دونوں ہمسایہ ملکوں کو ایک دوسرے سے دور کیا ان سالوں میں بھارت نے چا بہار کی بندر گاہ سے افغانستان کے لئے شاہراہ کی تعمیر پر سر مایہ کاری کی اُسکا مقصد یہ تھا کہ امریکہ،بھارت اور افغانستان زمینی راستے کے لئے پاکستانی حکومت کے محتاج نہ رہیں 2006 ؁ء سے لیکر 2016 ؁ء تک چابہار سے کا بل آنے والی شا ہر اہ کے نقشے اخبارات میں آتے رہے یہ وہ دور تھا جب گوادر کی بندر گاہ تعمیر ہوچکی تھی اس کو چلانے کا ٹھیکہ بھی سنگار پور کی کمپنی کو دیا گیا مگر امریکہ کے دباؤ پر سنگار پور کی کمپنی کا م نہ کرسکی چینی کمپنی نے ٹھیکہ لیا چینی کمپنی کو بھی کام کر نے نہیں دیا گیا گوادر میں گہرے سمندر کی بندر گاہ اب تک امریکہ کے رحم و کرم پر ہے یاد ش بخیر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کہا کرتے تھے کہ ملکی بقا، سلامتی اور قومی ترقی واستحکام کے لئے پالیسیوں کا تسلسل بہت ضروری ہے چابہار سے افغانستان تک شاہراہ کی تعمیر میں پالیسیوں کا تسلسل نظر آتا ہے گوادر بندر گاہ کی ناکامی میں پالیسیوں کے ٹو ٹنے کا عمل دخل ہمیں نمایاں طور پر دکھا ئی دیتا ہے چاہ بہار سے کابل تک شا ہر اہ تعمیر کر نے کا منصوبہ کانگریس کی حکومت میں شروع ہوا منموہن سنگھ کے بعد بی جے پی کا وزیراعظم نر نید ر مودی آیا اُس نے کام کو جاری رکھا پالیسی میں فرق یا تعطل آنے نہیں دیا فوج اور عدلیہ نے مداخلت نہیں کی پارلیمنٹ نے رکاؤ ٹ نہیں ڈالی اپوزیشن نے شور نہیں مچا یا منصو بہ چلتا رہا اور تکمیل کو پہنچ گیا بھارت، امریکہ اور افغانستان کو لاکھ بُرا کہیں لیکن یہ کریڈٹ انکو جاتا ہے کہ اُنہوں نے ایک منصو بے پر کام شروع کر کے اس کو مکمل کیا اس کے مقابلے میں گوادر کی کہانی پڑھیں تو دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے پاکستان کے نامور وزیراعظم حسین شہید سہر وردی نے 1954 ؁ء میں گوارد کا علاقہ سلطنت اومان سے خرید لیا وہ اس کو بندر گاہ کا درجہ دیکر پاکستاان کو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کا مرکز بنا نا چاہتے تھے اُن کی سکیم واضح تھی اگر حسین شہید سہروردی 5 سال تک وزیراعظم رہتے تو دوبئی سے پہلے گوادر کی بندرگارہ بن چکی ہوتی اور پاکستان کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکی ہوتی مگر اُن کی حکومت کا خاتمہ کر کے ان کو گھر بھیجد یا گیا اس کے دیگر برے نتائج کے علاوہ ایک ناگوار نتیجہ یہ نکلا کہ گوادر کی بندر گاہ 53 سالوں تک تجارتی مرکز نہ بن سکی جنرل مشرف نے بندر گاہ بنائی تو اس کی حکومت ختم کر دی گئی نواز شریف نے گوادر کو CPEC کے ذریعے دوبارہ زند ہ کر نے کا پروگرام بنا یا تو اس کا بوریا بستر گول کر دیا گیا پالیسیوں کاتسلسل کسی شخصیت کے گردنہیں گھومتا یہ قومی مفاد،ملکی تعمیر و ترقی کو اپنا محور بنا تا ہے افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں سرد مہر ی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کے معاہدوں کو مستر د کرتی ہے باہمی اعتماد ختم ہوجاتا ہے اگر چاہ بہار کے راستے بھارتی مال کی پہلی کھیپ کا بل ”پہنچنے“ پر جشن کا سما ں ہوا تو ہمیں اس پر کوئی تعجب نہیں ہوگا ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“