صدابصحرا۔۔ پاکستانی شناخت کامسئلہ۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

Print Friendly, PDF & Email

جو لوگ کھبی پاکستان سے باہر نہیں گئے ان کو پاکستانی شناخت کے مسئلے کا علم نہیں ہے۔جو لوگ یورپ،امریکہ،چین،کوریا اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتے ان کو بھی علم نہیں ہوگا کہ پاکستانی شناخت کی کیا اہمیت ہے اور شناخت کا مسئلہ کیا ہے دراصل گذشتہ 46 سالوں کے اندر پاکستانیوں کو شناخت کا مسئلہ درپیش ہے مشرقی پاکستان ٹوٹ کر الگ ہو نے کے بعد ہمارے دشمنوں نے پاکستان کے اندر نفرتوں کے بیچ بونے کا کام کیالسانی،قبائلی اور نسلی بنیادوں پر قوم کو تقسیم کیا مسلکی، فقہی اور مذہبی بنیادوں پر قو م کو تقسیم کیا نفرتوں کے بیج اس طرح بوئے گئے کہ اب یہ دیواروں اور چٹانوں کی طرح مضبوط درختوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں گھرگھر،گلی گلی،محلہ محلہ تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے تعلیمی اداروں سے لیکر عبادت گاہوں تک یہ جراثیم پھیل چکے ہیں سیاستدانوں سے لیکر سرکاری ملازمیں تک معاشرے کے با اثر طبقوں کو زہر آلود کیا جا چکاہے بلوچستان اور سندھ کی صورت حال کو دیکھیں،جنوبی پنجاب میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دیکھیں خیبر پختنونخوا کے اندر ہزارہ وال تحریک پر ایک نظر دوڑایئں پشاور شہر کے اندر ہندکوان اور پختون کی تقسیم کا جائزہ لے لیں قبائل کو صوبے کے ساتھ ضم کرنے کی بحث میں آنے والے مسائل پر غور کریں کوہستان،سوات اور دیگر علاقوں میں مختلف قبیلوں کے درمیاں چھوٹے چھوٹے مسائل پر اُٹھنے والے اختلافات کو دیکھیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ ملک کی 425 سیاسی جماعتوں پر غور کریں آخر دو یا تیں سیاسی جماعتوں کی جگہ 425 سیاسی جماعتوں کی ضرورت کیوں پیش آئی جن پاکستانی شہریوں کی عمریں 60سالوں سے اوپر ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں 1956یا 1967کا سال جنکو یاد ہے وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ 1950اور 1960کے عشروں میں پاکستان کی سوسایئٹی مضبوط اور توانا سوسایئٹی تھی مساجد اور امام بارگاہوں میں پولیس یا فوجی پہرے کے بغیر عبادت ہوا کرتی تھی مختلف مسالک کے لوگ ایک دوسرے کے علماء کو سُنتے تھے ان کا ادب اور احترام کرتے تھے مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کا ادب اور احترام کرتے تھے اسمبیلوں میں ادبی چٹکلے ہوتے تھے اشعار کے پیرائے میں ایک دوسرے پر تنقید ہوتی تھی قوانین کے حوالے دیکر بات کی جاتی تھی اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا تھا 1971کے بعد صورت حال میں تبدیلی آگئی شاید دشمن نے مشرقی بازو کو توڑ کر الگ کرنے کے بعد مغربی بازو کار خ کر لیا دُشمن کا نام لیا جائے تو ایک موثر طبقہ اس کو نظریہ سازش قرار دیکر مسترد کرتاہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہر بات میں سازش نہ ڈھونڈو اپنا عیب دوسروں پر ڈالنے کی کوشش نہ کرو یہ فیشن ایبل بات ہے مگر اپنا عیب ڈھونڈتے ہوئے اگر درمیاں میں دشمن کاہاتھ نظر آئے تو کیا ہم اُس ہاتھ کو توڑنہ دیں میرے گریباں میں دشمن کا ہاتھ کیسے پہنچا؟کیا اس پر غور نہ کریں؟دوباتیں خاص طور پر سوچنے اور غور کرنے کے لائق ہیں پہلی بات یہ ہے کہ 1947میں جس قوم نے پاکستان بنایا،1948اور1965کی جنگوں میں جس قوم نے دشمن کو شکست دی وہ قوم کدھر گئی؟قوم کی وحدت اوریک جہتی کو کیا ہوا؟قومی غیرت اور ہمت کدھر گئی؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ دشمن ملک کے اندر آزادی کی 23تحریکیں چل رہی ہیں مگر دشمن ملک کی اس کمزوری کودکھانے کے لئے ٹیلی وژن،اخبارات،ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ پر آزادی کی ان تحریکوں کا چرچا نہیں ہوتا پاکستان میں کسی قوم پر ست،فرقہ پرسٹ لیڈر کو چھینک بھی آئے تو خبر بنتی ہے اور عالمی میڈیا پر اُس کو بے حد پذیرائی دی جاتی ہے شناخت کا مسئلہ پیداکیا جاتا ہے آپ کو پاکستان سے باہر جانے کا موقع ملے یا بیرون ملک سے کوئی مہمان آجائے تب آپ کو پتہ لگتا ہے کہ شناخت کابڑا مسئلہ ہے باہر کے لوگوں نے اخبارات اور الیکڑنک میڈیا سے ہماری کمزوریوں کو پکڑلیا ہے یہی وجہ ؎ہے کہ چین اور روس میں سوشل میڈیا پر پابندیاں لگائی گئی ہیں بیرونی نشریاتی اداروں کو کھلی چھوٹ نہیں دی گئی ایران اور سعودی عرب میں اس حوالے سے سخت قوانین نافذ ہیں یہ پاکستان کی شناخت اور ساکھ کا مسئلہ ہے اس لئے پاکستان میں بھی مساجد،مدارس،کالجوں اور سکولوں کی سطح پر آگاہی پھیلاکر قومی یک جہتی کیلئے سب کوایک قوم ہونے کا احساس دلانے کی ضرورت ہے اور یہ وقت کا تقاضا بھی ہے۔