چترال کے پانچ ویلج اور نائبر ہوڈ کونسلوں کے نمایندگان اور عوام نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مسئلے کے حل تک دھرنا جا ری کھنے کا فیصلہ کیا

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) چترال کے پانچ ویلج اور نائبر ہوڈ کونسلوں کے نمایندگان اور عوام نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مسئلے کے حل تک دھرنا جا ری کھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کے روز چترال ٹاؤن کے مختلف دیہات، اورغوچ، دنین، جغور ، شیاقو ٹیک، خورکشاندہ کے بلدیاتی نمایندگان اور عوام نے چیو پُل چترال میں واپڈا آفس کے سامنے احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ اور چترال بونی روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند کئے رکھا۔ جس سے اپر چترال اور شہر کے اند ر لوگوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجی مظاہرین چترال میں دستیاب بجلی کو سابقہ شیڈول کے مطابق تمام ویلج کونسلوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جنہیں گذشتہ کئی دنوں سے مکمل طور پر بجلی سے محروم رکھا گیا ہے۔ مقررین نے کہا۔ کہ ہم چترال شہر کے ہسپتالوں اور بازار میں بجلی کی فراہمی کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن دفتری اوقات کے بعد یہی بجلی دوسرے دیہات کو بھی دیا جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہم بجلی استعمال کئے بغیر گذشتہ کئی عرصے سے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ مقررین نے ایس آر ایس پی، واپڈا، پیسکو اور پیڈو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُن کے خلاف نعرے لگائے، اور کہا۔ کہ ان ناہل اداروں کی وجہ سے چترال اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ گولین میں ایس آر ایس پی کے زیر نگرانی بجلی گھر چترال ٹاؤن کیلئے بنائی گئی تھی۔ لیکن ایس آر ایس پی نے خفیہ طور پر کوہ یوسی سے معاہدہ کرکے شہر کو اندھیروں میں رکھنے کا کردار ادا کیا۔ اب کمیونٹی میں اختلافات پیدا کرنے کی کو شش کی جارہی ہے۔ مقررین نے پاور کمیٹی کو بھی قصور وار ٹھہرایا۔ اور کہا۔ کہ اُس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر اُسے دفن کیا جا چکا ہے اب کوئی بھی پاور کمیٹی کا نام نہیں لے سکتا، انہوں نے کہا۔ کہ چترال ایک پُر امن ضلع ہے۔ لیکن یہاں نااہل اداروں کی وجہ سے حالات بگڑتے جارہے ہیں۔ اس کی ذمہ دار حکومت پر ہے۔ جو عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے دانستہ طور پر اُنہیں مسائل سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ کہ قوم کے منڈیٹ کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ اور جو فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اُن پر ایک فیصد بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کہ بعض علاقوں کو چوبیس گھنٹے بجلی دی جائے اور بعض کو مکمل طور پر محروم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا۔ کہ مسئلے کا واحد حل یہ ہے۔ کہ جتنی بجلی دستیاب ہے۔ اُسے دن کے وقت ہسپتالوں، دفاتر اور بازار کو دی جائے۔ لیکن شام پانج بجے کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق محروم وی سیز میں تقسیم کیا جائے۔ ااور جب تک منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی۔ احتجاج میں مزید شدت آئے گی۔احتجاجی جلسے سے صدر آل ناظمیں ایسوسی ایشن سجاد احمد، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد، محمد کوثر ایڈوکیٹ، صدر چترال چیمبر آف کامرس سرتاج احمد خان،کونسلر شمس الرحمن، ظاہرالدین، قاضی سیف اللہ، نائب ناظم اعجاز احمد اور ناظم نوید احمد بیگ نے خطاب کیا، درین اثنا اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم نے دھرنا ملتوی کرنے اور اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کئے۔ اور چترال بونی روڈ کھول دی۔ تاہم مسئلے کے حتمی حل کیلئے مظاہرین کے نمایندہ وفد اور ضلعی انتظامیہ کے مابین گذشتہ چار گھنٹوں سے بات چیت جاری ہے۔ لیکن تا دم تحریر فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے۔