بعض سیاسی قائدیں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے عوام کو طبقاتی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہزادہ خالد پرویز

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائندہ چترال میل) ممبر ضلع کونسل چترال شہزادہ خالد پرویز نے کہا ہے کہ لواری ٹنل کی تکمیل اور چترال کو سی پیک کا متبادل روٹ بنانے کے فیصلے کے بعد چترالی عوام کو پہلے سے کہیں ذیادہ اتحاد واتفاق اور بھائی چارے کی ضرورت ہے جبکہ بعض سیاسی قائدیں اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے عوام کو طبقاتی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کا نہایت بھیانک نتیجہ برامد ہوگا اور ہم ترقی کے دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے آپس میں دست وگریبان ہوں گے۔ تورکھو کے تاریخی گاؤں کھوت کے مقام پر کپٹن اجمل شہید میموریل ٹورنامنٹ کے فائنل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپنی جذباتی تقریروں میں طبقاتی اور دوسری بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے ہیجان خیز تقریر کرکے آنے والے انتخابات میں ووٹ لینے کی کوشش کرنے والے رہنماؤں کو ہوش کا ناخن لینا چاہئے جوکہ کرسی کی خاطر چترال کی مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے چترال کے لئے جو کارنمایان انجام دیا، وہ لواری ٹنل کی تکمیل کے لئے 24ارب روپے کی منظوری کروانا ہے جوکہ پراجیکٹ کی کل لاگت کا 80فیصد حصہ ہے۔ا نہوں نے کہاکہ بونی بزند روڈ کو ان کے بابا شہزادہ محی الدین نے گزشتہ دور میں قومی اسمبلی کی ممبرشپ کے دوران شروع کرایا تھا اور اس کی تکمیل کے لئے شہزادہ افتخا ر الدین نے ڈیڑھ ارب روپے منظور کروائے تاکہ تورکھو اور تریچ ویلی کے عوام کو اس کا فائدہ پہنچ سکے۔ شہزادہ خالد پرویز نے کہاکہ اپنے بابا کے نقش قدم کے چلتے ہوئے شہزادہ افتخار الدین نے بھی کھوت روڈ کی توسیع اور بہتری کے لئے دو کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کرائی ہے اور عنقریب کھوت روڈ پر کام شرو ع ہوگا۔ شہزادہ خالد پرویز نے کہاکہ اگر موقع دیا گیا تو وہ بھی کھوت کے عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور اس علاقے کے عوام کے ساتھ اپنے بابا کی خصوصی تعلق کو اور بھی مضبوط بنیاد وں پر استوار کریں گے۔ انہوں نے علاقے کے ایک بہادر سپوت کپٹن اجمل شہید کے نام پر ٹورنامنٹ منعقد کرنے پر منتظم نجم الدین نجمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس علاقے میں نوجوانوں کو تفریح کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کی اور اپنی طرف سے ٹورنامنٹ انتظامیہ کے لئے 70ہزار روپے، جیتنے والی ٹیم کو 20ہزار روپے کا اعلان کیا۔ اس ٹورنامنٹ میں فٹ بال کے 50کرکٹ کے 40اور ولی بال کے 20ٹیموں نے شرکت کی۔ فٹ بال کے فائنل میں سنسنی خیز مقابلے میں رائین فٹ بال ٹیم نے ورکوپ ٹیم کو ایک گول سے شکست دے دی۔