لوٹ کوہ کی سب سے بڑی وادی ارکاری اور مومی میں متعدد ویلج ناظمین نے اپنے ساتھ سینکڑوں خاندانوں کے ساتھ جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے تاریخ میں سب سے پہلی مرتبہ وادی میں جماعت اسلامی کے پرچم گھروں پر لہرائے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نما یندہ چترال میل) لوٹ کوہ کی سب سے بڑی وادی ارکاری اور مومی میں متعدد ویلج ناظمین نے اپنے ساتھ سینکڑوں خاندانوں کے ساتھ جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے تاریخ میں سب سے پہلی مرتبہ وادی میں جماعت اسلامی کے پرچم گھروں پر لہرائے گئے۔ جمعہ کے دن ارکاری اور مومی کے مقامات پر شمولیتی تقریب میں ویلج ناظم شیر محمد اور دوسروں نے ضلع ناظم مغفرت شاہ کی موجودگی میں اعلان کرتے ہوئے انہوں نے جماعت اسلامی کی قیادت اور پروگرام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس وادی کی طرف یہ پہلا قدم ہے جس سے سنی اور اسماعیلی کمیونٹی ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے اور اس عمل میں ضلع ناظم کی کاوشوں کو قابل قدر قرار دیا۔ اس موقع پرخطا ب کرتے ہوئے ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہاکہ ہم پسماندگی کا شکار اس وادی سے احساس محرومی کوہمیشہ کے لئے ختم کرنے، بھائی چارے کا رشتہ قائم کرنے اور سب کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2007ء میں ضلع نظامت کے پہلے ٹرم کے دوران سلیم خان کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرنے کا واحد مقصد بھی اسماعیلی کمیونٹی کو اپنے قریب تر لانا تھا لیکن سلیم خان نے قوم کو مایوس کیا اور ان کے ساتھ راہیں اس وقت جدا ہوگئے جب سین لشٹ کی چالیس گھرانوں کو شہزادہ گل نے بے گھر کردیا اور وہ صوبائی کابینہ میں ہونے کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور یہ آپ کی پرچی ہی تھی جس کے زور پر یہ چالیس خاندان بے گھر کردئیے گئے اور اب کریم آباد میں سرکاری چراگاہ کی ملکیت کے تنازعے پر لوگوں کو جیلوں میں ڈالے گئے اور اب بھی سلیم خان نے خاموشی کا لبادہ اوڑ ھ لیا جبکہ میں نے ظلم کو کبھی برداشت نہیں کیا اور ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دینے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وادی کے عوام نے جسے 35سال تک مسلسل اپنی ووٹوں سے اقتدار میں لاتے رہے، وہ وفاداریاں تبدیل کرکے اپنا اُلو تو سیدھا کرتے رہے مگر یہ وادی اس ترقی یافتہ دور میں بھی سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ ضلع ناظم نے کہاکہ حالات نے انہیں مجبور کردیا ہے کہ ان کی قیادت سنھبال کراس وادی میں ترقی کا عمل شروع کروں جس میں سرفہرست روڈ اور پلوں کا اانفراسٹرکچر ہے جس کے لئے بنیادی طور پر ساڑھے 3کروڑ روپے کی منظوری کرائی ہے جبکہ اندختی اور رجی کے درمیان پل تعمیر کیا جائے گا جس سے روڈ مشینری اس وادی میں لائے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ کا ویلج ناظم نے جماعت اسلامی جیسی ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے جوکہ ایک سیاسی قوت ہے اور میں آپ کو دینی سیاسی جماعتوں کی اتحاد میں بھی شامل کرنا چاہتا ہوں جبکہ ہم خود انقلابی فکر والے لوگ ہیں اور آپ کو لے کر آگے جانا چاہتے ہیں اور یہ سب کچھ ووٹ کے لئے ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے ارکاری کے عوام پر زور دیا کہ وہ ایک دفعہ جماعت اسلامی کے قریب آکر اور اس پر اعتماد کرکے دیکھ لیں تو انہیں حقیقت حال کا خود بخود اندازہ ہوگا۔ اس سے قبل ارکاری سے ممبر ضلع کونسل عبدالقیوم اور تحصیل کونسل کے ممبر عبدالمجید، لوٹ کوہ سے ضلع کونسل کے ممبر محمد حسین اور مقامی رہنما شیر محمد، زار خان اور میر حکیم نے بھی خطاب کرکے مغفرت شاہ کی ولولہ انگیز قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اپنے خطاب میں محمد حسین نے شہزادہ محی الدین اور سلیم خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ارکاری کے عوام کو دونوں رہنماؤں نے مایوسی کے سواکچھ نہ دیااور ارکاری روڈ کی صورت حال وہی ناگفتہ ہے جوکہ 35سال پہلے تھی۔ انہوں نے کہاکہ سلیم خان اس علاقے کا باشندہ ہونے کے باوجود ارکاری کو نظر انداز کیا اور 86کروڑ روپے شا شا سے آگے غائب کردئیے جن میں سے 5کروڑ روپے اگر اس وادی میں خرچ کرتے ہوئے تو آج سڑک کی صورت حال یہ نہ ہوتی اور وہ لوگ اب کس منہ سے ووٹ مانگنے اس وادی میں آر ہے ہیں۔ محمد حسین نے کہاکہ لوٹ کوہ کے عوام وفا شعار ہیں اور اپنی طرف ایک قدم آنے والے کو سو قدم آگے جاکر گلے لگاتے ہیں اور جماعت اسلامی نے مخلصانہ قدم اٹھالی تو یہاں کے عوام ضرور ساتھ دیں گے۔ انہوں نے دینی سیاسی جماعتوں اور اسماعیلی کمیونٹی کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اسماعیلی مسلک کے نام پر ووٹ مانگنے کو اس مسلک کے ساتھ توہین سمجھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو ہماری ترقی کے لئے کام کرے، وہی ہمارا نمائندہ ہے اور اب لوٹ کوہ کے عوام مسلک کے نام پر سیاست کو دفن کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ ارکاری سے ممبر ضلع کونسل عبدالقیوم نے ضلع ناظم کی مثبت روئیے کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ میں ضلع کونسل میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ضلع ناظم کی سب سے ذیادہ توجہ پاتا ہوں اور وہ سیاست بازی کرنے کی بجائے علاقے کی پسماندگی کو پیش نظر رکھتا ہے۔ عبدالقیوم نے ضلع ناظم کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ سفید ارکاری میں بیسک ہیلتھ یونٹ کی منظوری پر ارکاری کے عوام ان کے مشکور ہیں جبکہ ارکاری روڈ پر کام کو عملی جامہ پہنانے پر ارکاری کے عوام ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ارکاری اس وقت تک ترقی کرکے پسماندگی کے دلدل سے نہیں نکل سکتا جب تک یہاں ایک مخصوص مافیا کا قلع قمع کرکے آپس میں اتحاد واتفاق قائم نہیں ہوتا۔ انہوں نے اہالیان ارکاری پر زور دیا کہ وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی فکر کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ترقی خود ان ہی کے ذریعے آسکتی ہے۔ ارکاری سے تحصیل کونسل کے رکن عبدالمجید نے کہاکہ ارکاری کے عوام سیاسی طور پر بیدار ہیں اور سب مل کر کسی سیاسی لیڈر کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے ضلع ناظم کو یقین دلایا کہ اگر اس وادی کی سڑک اور پلوں کا مسئلہ حل ہوا تو اس وادی میں ترقی کا حقیقی عمل شروع ہوگا اور علاقے کے عوام اس کا بدلہ دینے میں کوئی بخل نہیں کریں گے جس کا مظاہرہ 2018ء میں ہوگا جب دوسری جماعتوں کو یہاں آ نے کی بھی ہمت نہ ہوگی۔ اس موقع پر ویلج ناظم شیر محمد معروف سماجی و سیاسی کارکن زار خان اور ایل ایس او منیجر میر حکیم نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ارکاری کے عوام نے جماعت اسلامی اور ضلع ناظم مغفرت شاہ کے ساتھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں اور ارکاری کے عوام احسان کا بدلہ دینے میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے۔ اس سے قبل جب ضلع ناظم مومی اور ارکاری وادی میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ لوگوں نے محراب سجاکر انہیں جماعت اسلامی کی جھنڈیوں سے سجاکر ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں جلوس کی شکل میں سفید ارکاری میں جلسہ گاہ لے جایا گیا۔

Exif_JPEG_420

Exif_JPEG_420