چترال(نمائندہ)ضلعی رہنما آل پاکستان مسلم لیگ چترال صدیق احمد نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ چترال کے لوگ انتہائی باشعور اور مہذب ہیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں شہزادہ محی الدین چترالیوں کے حقیقی محسن ہیں اس لئے کئی مرتبہ وہ نمائندہ منتخب ہوئے۔اب اسکا بیٹا شہزادہ افتخار الدین ایم این اے کی حیثیت سے منتخب ہوئے ہیں اور اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چل کر عوام کی خدمت کو اپنے لئے عبادت سمجھ کر انجام دے رہا ہے اور موجودہ حکومت سے کئی میگاپراجیکٹ منظورکرائے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ شہزادہ محی الدین کے چاہنے والوں کی تعداد چترال میں لاکھوں ہیں۔شہزادہ محی الدین کے چاہنے والے اب انکے بیٹوں کے ساتھ ہے جس کا واضح ثبوت 2013کے الیکشن میں عوام دے چکے ہیں۔ہم شہزادہ محی الدین کے شیدائی اب انکے بیٹوں کے ساتھ ہیں وہ جس پارٹی سے الیکشن لڑینگے انکی شیدائیوں کی ووٹ انکے بیٹوں کو ملینگے اور2018کے الیکشن میں بھی انشاء اللہ دونوں بھائی کامیاب ہوکر اپنے والد محترم کے چترالیو ں کی خدمت کے مشن کو آگے بڑھائینگے۔شہزادہ محی الدین کی شیدائیوں کو کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ چترال میں بے سہارہ پارٹیوں کو شہزادہ محی الدین اور انکے بیٹوں کی ضرورت ہوگی۔
تازہ ترین
- ہومکلرز آف چترال کی طرف سے مارخور رمضان فٹسال لیگ سیزن ون 2026 کا گرانڈ فائنل کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
- ہومپاکستان اسٹیٹ آئل ڈپو لوئر چترال میں موک ایکسرسائز عمل میں لایا گیا
- ہوملوئر چترال ٹریفک وارڈن پولیس کی جانب سے سٹی بازار چترال میں غلط پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز
- مضامیناولاد کی تربیت اور صحبتِ بد سے بچاؤ: قرآن و سنت کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد
- مضامینرشوت: ایک سماجی کینسر اور شرعی نقطہ نظر۔۔۔بشیر حسین آزاد۔
- مضامینعالمی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں: صبر و تحمل کی ضرورت۔۔ تحریر بشیر حسین آزاد
- ہومچترال: سال 2026 کے لیے صدقہ فطر کے ریٹس کا اعلان،کم از کم شرح 240 روپے مقرر
- مضامینحرصِ مال اور رشتوں کا زوال: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔بشیر حسین آزاد۔۔
- ہومچترال کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے افغانستان کی طالبان حکومت کی حالیہ سرحدی جارحیت اور بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف چترال شہر میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس نکالا
- ہوم*ضلعی پولیس سربراہ کی قیادت میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیاں بدستور جاری


