چترال میں یونیورسٹی کا قیام یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جوکہ ہمارے ہاتھوں اور ہمارے دور حکومت میں پورا ہوگیا جوکہ ہمارے لئے قابل فخر بات ہے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک

Print Friendly, PDF & Email

چترال (نمائندہ چترال میل)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جب ادارے ضوابط کے تحت چلتے رہیں، میرٹ کا ہر جگہ بول بالا ہو، اداروں کے امور میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہوتو وہی ملک ترقی کرتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف، صوبے میں حکومت سازی کے بعد اسی اصول پر کاربند ہے جہاں میرٹ کو توڑنے کی ہمت اور جرات کسی میں نہیں ہے جبکہ گزشتہ 70سالوں میں کسی حکمران کو اس طرف توجہ دینے کا موقع نہیں ملا۔ بدھ کے روز چترال یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مارخوروں کی ٹرافی شکار کے لئے کمیونیٹیز کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس حکومت کا خاصہ یہ ہے کہ ہر ادارے کو چلانے کے لئے نہ صرف قانون سازی کی گئی ہے بلکہ اداروں کو مستحکم کرنے اور وہاں سیاسی مداخلت کی بجائے میرٹ پر تمام امورچلانے کو سب سے ذیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یورپ کی ترقی کا راز ہی یہ ہے کہ وہاں پر میرٹ کا نظام قائم ہے جہاں اداروں کو چلانے کے لئے بنائے گئے اصول وضوابط کی خلاف ورزی اور پامالی کی جرات بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ پرویز خٹک نے عوام پر زورد یا کہ جو قومی ادارے کام ٹھیک طریقے سے نہ کریں اور عوام کو سہولت بہم پہنچانے میں ناکام رہیں، ان کی نشاندہی کریں اور ان کے خلاف کھڑے ہوجائیں تو ان کا ہم مکمل طور پر ساتھ دیں گے اور اداروں میں موجود نقائص کو دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت روپے پیسے خرچ کررہی ہے تو اس کے باوجود ٹوٹی پھوٹی سڑکیں کیوں موجود ہیں جوکہ کرپشن کی نشاندہی کررہی ہیں اور سابق دور میں اے این پی حکومت میں تمام ترقیاتی منصوبے دو نمبرہوتے تھے جوکہ اپنی تعمیر کے ایک سال سے بھی پہلے کھنڈر کا منظر پیش کرتے تھے لیکن پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کسی مائی کے لعل کو ایک پیسہ کرپشن کرنے کی ہمت نہیں ہوسکتی کیونکہ کمیشن اور رشوت نہ تو ہم خود لیتے ہیں اور نہ کسی کو لینے کی اجازت دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ چترال میں یونیورسٹی کا قیام یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جوکہ ہمارے ہاتھوں اور ہمارے دور حکومت میں پورا ہوگیا جوکہ ہمارے لئے قابل فخر بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی سے نہ صرف ڈگری ملتی ہے بلکہ یہ کسی علاقے کی ترقی میں بھی اہم کردار اداکرتی ہے اور سی پیک منصوبے کی تکمیل کے بعد چترال یونیورسٹی کی اہمیت وضرورت اور بھی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران چترال میں ٹورزم اور معدنیات کو ترقی دینے کے حوالے سے چینی سرمایہ کاروں سے بات کی ہے اور یہاں پر ان شعبوں کی ترقی سے روزگارکے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور اس کے نتیجے میں انڈسٹری کو ترقی ملے گی اور انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہر حکومت کی ایک ترجیح ہوتی ہے اور پی ٹی آئی حکومت کی ترجیح اداروں کے استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میں خاطر خواہ اضافہ کرکے ان پر میرٹ کے مطابق تقرری یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے دو پلوں سمیت چترال بائی پاس روڈکاافتتاح کیا جسے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں مکمل کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی تعمیر کردہ پبلک لائبریری کا بھی ممبر شپ فارم بھر کر باقاعدہ افتتاح کیا۔ بعدازاں انہوں نے اناوج یارخون کا بھی دورہ کیا جہاں حال ہی میں برفانی سیلاب نے سڑک کو دریا برد کرکے وادی یارخون کو ضلعے کے دوسرے حصوں سے منقطع کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بدھ کے روز دو صوبائی وزرا ء مشتاق احمد غنی اور محمود خان کے ساتھ خصوصی طیارے پر دو روزہ دورے پر چترال پہنچے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔